
ممبئی ، 15 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بیان بازی تیز ہو گئی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے ادھو ٹھاکرے گروپ (یو بی ٹی) میں اندرونی اختلافات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنجے راوت اور آدتیہ ٹھاکرے کے درمیان براہ راست ٹکراؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ممبئی میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوناتھ بان نے کہا کہ پارٹی میں آدتیہ ٹھاکرے کو کارگزار صدر بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، لیکن اس بارے میں سنجے راوت لاعلمی ظاہر کر رہے ہیں، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ پارٹی کے فیصلوں سے باہر ہو چکے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ سنجے راوت ادھو ٹھاکرے کے بعد پارٹی کی قیادت خود سنبھالنے کے خواہشمند ہیں اور اسی مقصد کے لیے وہ اپنے حامی گروپ کے ساتھ سرگرم ہیں۔ بان کے مطابق، راوت آدتیہ ٹھاکرے کی بطور کارگزار صدر تقرری کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے خلاف مختلف قسم کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔نَوَناتھ بن نے مزید کہا کہ سنجے راوت کے قریبی حلقے کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آدتیہ ٹھاکرے ریاست میں سرگرم نہیں رہتے اور اکثر گھر پر ہی رہتے ہیں، تاکہ ان کی قیادت کو کمزور دکھایا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی وجہ سے آدتیہ ٹھاکرے نے سنجے راوت کو اعتماد میں لیے بغیر اپنی حکمت عملی تیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ پارٹی میں کس گروپ کا اثر و رسوخ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آئندہ ڈیڑھ سال میں سنجے راوت کی رکن پارلیمنٹ کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اگر اس وقت تک آدتیہ ٹھاکرے کارگزار صدر بن جاتے ہیں تو راوت کو دوبارہ موقع ملنا مشکل ہو جائے گا۔اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے نوناتھ بن نے کہا کہ ملک میں حلقوں کی تعداد بڑھنے سے کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا بلکہ اصل مسئلہ اپوزیشن جماعتوں کے اندرونی اختلافات ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی صورتحال واضح ہو جائے گی۔انہوں نے سنجے راوت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کی تقسیم کی باتیں کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہی پارٹی کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ پارٹی پہلے ہی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاراشٹر ایک متحد ریاست ہے اور ہمیشہ متحد ہی رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے