
مانڈیا (کرناٹک)، 15 اپریل (ہ س) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ ہندوستان ہزاروں سال قدیم ایک متحرک تہذیب ہے، جہاں روایات کا تسلسل دنیا میں بے مثال ہے۔ بہت کم ممالک میں ثقافتی اور روحانی روایات کی اتنی طویل تاریخ ہے۔
وزیر اعظم کرناٹک کے مانڈیا ضلع میں آدیچونچناگیری مہاسنستھان مٹھ میں سری گرو بھیراوکیا مندر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماو¿ں نے مشترکہ طور پر سندریہ لہری اور شیوا مہمنا ستوترم نامی کتاب کا اجراءبھی کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی سماج کو وقتاً فوقتاً عظیم سنتوں اور شخصیات سے نوازا گیا ہے جنہوں نے نہ صرف روحانی رہنمائی فراہم کی بلکہ معاشرے کے درمیان رہتے ہوئے لوگوں کے دکھوں کو سمجھتے ہوئے انہیں مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی روایت اور طاقت ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے اہل وطن سے نو اہم گزارشات بھی کیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پانی کے تحفظ کو اپنائیں اور اس کا بہتر انتظام کرنے کا عہد کریں۔ انہوں نے ایک درخت ماں کے لیے مہم کے تحت ماحولیاتی تحفظ کے لیے درخت لگانے کی بھی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ صفائی کو محض حکومتی پروگرام نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عوامی تحریک بنایا جائے۔ مذہبی مقامات، عوامی مقامات، دیہاتوں اور شہروں میں صفائی کو برقرار رکھنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ووکل فار لوکل کو اپنانے اور مقامی مصنوعات کو فروغ دینے پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے گھریلو سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ملک کے تنوع کو سمجھنے کے لیے ہندوستان کے مختلف حصوں کا سفر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کسانوں سے قدرتی کاشتکاری کی طرف بڑھنے پر بھی زور دیا۔
صحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش موٹاپا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی خوراک میں تیل کی مقدار کو کم کریں اور جوار (شری انا) کو شامل کریں۔ انہوں نے یوگا اور کھیل کو زندگی کا حصہ بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اپنی نویں اپیل میں وزیر اعظم نے کہا کہ ضرورت مندوں کی خدمت کرنے سے معاشرے کو تقویت ملتی ہے اور زندگی کا مقصد ملتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر ان اپیلوں پر خلوص نیت سے عمل کیا جائے تو ترقی یافتہ کرناٹک اور ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف تیزی سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
آدیچونچناگیری مٹھ کی روایت کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مٹھ تقریباً 2,000 سال پر محیط ایک شاندار ورثے کو مجسم کرتا ہے۔ اس کی گرو روایت، روحانی فلسفہ، اور خدمت کے جذبے نے نسلوں تک معاشرے کی رہنمائی کی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر آنجہانی سنت ڈاکٹر بال گنگادھرناتھ مہاسوامی جی کے تعاون کو یاد کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مہاسوامی جی نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تبدیلی کا کام کیا۔ ان کی کوششوں نے دیہی اور پسماندہ کمیونٹیز کے لاکھوں بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کئے۔
صحت کے شعبے میں ان کی شراکت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ایسے ادارے قائم کیے جو خدمت کے جذبے کے ساتھ معیاری صحت کی دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ صحت کی دیکھ بھال ہر شہری کا حق ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ شری گرو بھیراوکیا مندر صرف ایک مذہبی ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ خدمت، روحانی مشق اور تحریک کا مرکز بن جائے گا۔ یہ کمپلیکس روحانیت اور جدید ٹیکنالوجی کے انوکھے سنگم کی نمائندگی کرتا ہے۔
مرکزی حکومت کے صحت پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت لاکھوں غریبوں کا مفت علاج ہوا ہے۔ اس اسکیم کو 70 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں تک بھی بڑھایا گیا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ انہیں باعزت صحت کی دیکھ بھال ملے۔
اپنے تجربات کا اشتراک کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مندر کا دورہ کرنے سے انہیں ایک گہرا روحانی تجربہ ملا ہے۔ انہوں نے سری کلا بھیروا مندر کا دورہ، گرو بھیراوکیا مندر کا افتتاح، اور سنتوں کی صحبت کو اپنی زندگی کے یادگار لمحات قرار دیا۔
اس موقع پر موجود لوگوں کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مقام آنے والے وقت میں معاشرے کے لیے تحریک اور خدمت کا مرکز بنے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی