
اندور میونسپل کارپوریشن کی بجٹ میٹنگ میں کانگریس کونسلر روبینہ خان اور فوزیہ شیخ نے وندے ماترم گانے سے انکار کیا تھا
اندور، 15 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور میونسپل کارپوریشن میں بجٹ اجلاس کے دوران ’’وندے ماترم‘‘ معاملے میں کانگریس کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوزیہ علیم شیخ کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے۔ ایم جی روڈ تھانہ پولیس نے بدھ کو تفتیش کے بعد دونوں کونسلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اندور میں وندے ماترم تنازعہ میں یہ پہلی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
دراصل، میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ بدھ کو بجٹ اجلاس کے دوران دونوں کانگریس کونسلروں نے قومی گیت ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس بات کو لے کر بجٹ کے دوران زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ اس معاملے میں کارپوریشن کے چیئرمین منالال یادو نے بی جے پی کونسلروں کے وفد کے ساتھ ایم جی روڈ تھانہ پہنچ کر شکایت درج کرائی تھی۔
اے سی پی ونود دکشت نے بتایا کہ معاملے میں شکایت کے بعد پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کونسلر فوزیہ شیخ علیم کے پیر کو بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ منگل کو کونسلر روبینہ اقبال خان کے بیان درج کیے گئے ہیں، اس کے ساتھ ہی ان سے معاملے سے متعلق سوال و جواب بھی کیے گئے۔ روبینہ نے اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس سے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی انہیں (مسلمانوں کو) آزادی دی ہے۔ میں اپنے بیان ’’کسی کے باپ میں دم تو ہو‘‘ پر معذرت چاہتی ہوں۔ ادھر فوزیہ شیخ نے پولیس کو بتایا کہ ہندوستانی آئین انہیں مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ آئین کے تحت کسی کو بھی زبردستی کوئی گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جب وہ ایوان میں گندے پانی اور عوام سے منسلک ضروری مسائل پر بات کرنا چاہ رہی تھیں، تب بی جے پی کونسلروں نے جان بوجھ کر ’وندے ماترم‘ کا مسئلہ اٹھا کر توجہ بھٹکانے کی کوشش کی۔
اے سی پی دیکشت نے بتایا کہ جانچ کے بعد ایم جی روڈ پولیس نے کانگریس کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم کے خلاف بدھ کو مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے یہ قدم بی جے پی کونسلروں کی شکایت اور وائرل ویڈیو کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔ دونوں کونسلروں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 196/1 (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا اور ہم آہنگی بگاڑنا) کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن