
بھوپال، 15 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے بی جے پی حکومت کی ’ناری شکتی وندن مہم‘ پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسے خواتین کے نام پر سیاسی بندوبست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں میں 33 فیصد خواتین کے ریزرویشن کی بات تو زور و شور سے کی جا رہی ہے، لیکن اس کی دفعات اور نفاذ کو لے کر شدید ابہام برقرار ہے۔
امنگ سنگھار نے بدھ کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جہاں ایس سی/ایس ٹی خواتین کے لیے ریزرویشن کی واضح گنجائش موجود ہے، وہیں او بی سی خواتین کے لیے کوئی ٹھوس انتظام نظر نہیں آتا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ملک اور ریاست کی اتنی بڑی آبادی کی خواتین کو اس نظام سے باہر رکھنا ہی سماجی انصاف ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ان ریزرویشن کو حلقہ بندیوں کی حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑ دیا گیا ہے، جبکہ اس کی کوئی طے شدہ مدت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ شبہ برقرار ہے کہ کیا یہ تحفظات 2028 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات تک نافذ ہو پائیں گے، یا پھر یہ صرف ایک سیاسی اعلان بن کر رہ جائیں گے۔
حزب اختلاف رہنما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت 2027 کی مجوزہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے نتائج کا انتظار کیوں نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے بقول، حقیقی سماجی اعداد و شمار کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ لینا نہ تو منصفانہ ہے اور نہ ہی شفاف۔ انہوں نے وزیراعلیٰ موہن یادو سے اس معاملے پر واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
سنگھار نے یاد دلایا کہ مقامی اداروں میں خواتین کے تحفظات کی مضبوط بنیاد 93-1992 میں 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے رکھی گئی تھی۔ آج ملک بھر میں 14 لاکھ سے زیادہ خواتین پنچایت اور میونسپل اداروں میں منتخب ہیں، جو تقریباً 40 فیصد نمائندگی کی علامت ہے۔ انہوں نے اسے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی دور اندیش سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔
امنگ سنگھار نے کہا کہ خواتین کے نام پر صرف مہمات اور اعلانات نہیں، بلکہ واضح، ہمہ گیر اور وقت کے پابند انتظامات ہی حقیقی بااختیاری کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن