
جموں, 15 اپریل (ہ س)جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کے روز ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین ریاستی اور سرحد پار روابط رکھنے والے منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی مطلوب منشیات فروش گلزار احمد عرف لاؤ گجر کو اس کے کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جموں جوگیندر سنگھ نے بتایا کہ ملزم طویل عرصے سے علاقے میں بڑے پیمانے پر منشیات کی سپلائی کر رہا تھا اور گزشتہ دو دہائیوں سے قانون کی گرفت سے بچتا آ رہا تھا۔ انہوں نے اس گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک خطرناک مجرم اور منشیات کی سپلائی چین کا اہم کردار تھا۔ اس کا پورا نیٹ ورک اب شناخت کرکے ختم کر دیا گیا ہے۔ایس ایس پی کے مطابق گلزار احمد نے 2006 میں مویشی اسمگلنگ سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور 2016 کے آس پاس منشیات کے کاروبار میں داخل ہوا، جبکہ 2019 تک اس نے اپنے نیٹ ورک کو کافی وسعت دی۔
پولیس کے مطابق 4 اپریل کو گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے پاکستان ساختہ پستول بھی برآمد کیا گیا، جبکہ اس کے تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور 700 گرام سے زائد ہیروئن ضبط کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ نیٹ ورک سے وابستہ مزید تقریباً 10 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ دو درجن سے زائد افراد کی نشاندہی کر کے انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ایس ایس پی جوگیندر سنگھ نے کہا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے جو اس نیٹ ورک کے مالی روابط، اثاثوں اور سپلائی چین کے آگے اور پیچھے کے روابط کا جائزہ لے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ منشیات کس راستے سے بھارت میں داخل ہو رہی تھیں۔ایس ایس پی نے مزید کہا کہ ملزم سے برآمد اسلحہ پاکستان سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور اس پہلو سے بھی تحقیقات جاری ہیں، جو نارکو ٹیرر کے وسیع زاویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پولیس کے مطابق گلزار احمد جموں ضلع میں کم از کم 28 مقدمات میں مطلوب تھا جبکہ دیگر ریاستوں میں بھی اس کے خلاف مختلف ناموں سے درجنوں مقدمات درج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک جموں ضلع میں منشیات کے خلاف 103 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 9 مقدمات میں تجارتی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے تقریباً 11 کلوگرام ہیروئن، پوست بھوسہ، گانجا اور دیگر ممنوعہ اشیاء بھی ضبط کی ہیں، جبکہ 20 ڈرائیونگ لائسنس منسوخ اور تقریباً 200 گاڑیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر