
نئی دہلی،15اپریل(ہ س)۔
شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آٹھ اپریل دوہزار چھبیس کو شعبہ کے سیمینار روم میں ایک مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں مالدیو جمہوریہ سے جناب علا دیدی رسرچ انالسٹ، منسٹری آف آرٹس اینڈ ہیریٹیج، انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز، وزارت برائے امور خارجہ،حکومت ہندکے اکیڈمک ویزیٹر نے شرکت کی۔
صبح گیارہ بجے کیمپس پہنچنے پر، مسٹر عبداللہ عاصم، ان کی سوشل میڈیا ٹیم اور آئی سی سی آر کے رابطہ اہل کار جناب دیپک کے ساتھ، جناب علا دیدی نے شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما اور فیکلٹی اراکین سے ملاقات کی۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر اقتدار محمد۔ خان اور ڈین، بین الاقوامی تعلقات، جے ایم آئی، پروفیسر اشویندر کور پوپلی نے بھی بات چیت میں شرکت کی۔ مہمان کو جامعہ کی شاندار تاریخ اور اس کی موجودہ توسیع اور ترقی کے بارے میں بتایا گیا۔ جناب دیدی نے جامعہ اور مالدیپ کے روابط اور ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ آنے والے مالدیپ کے طلبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق اور معلومات بھی ساجھا کیے۔ وہ جامعہ ملیہ کے اس وقت کے شیخ الجامعہ اور ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کی طرف سے مالدیپ کے اسکالر کو لکھے گئے خط کی نقل بھی لائے تھے۔
ڈینز اور صدور شعبہ جات کے ساتھ ابتدائی ملاقات کے بعدجناب دیدی نے طلبہ سے خطاب کیا اور ’ہند۔مالدیو تاریخی و تہذیبی وثقافتی روابط اور موجودہ اور مستقبل میں باہمی تعلقات کو بہتربنانے کے لیے ان روابط سے استفادہ کرنے‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔پروگرام میں فیکلٹی اراکین، ریسر چ اسکالر اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
جامعہ کی ثقافتی روایت کی عکاسی کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک اور جامعہ ترانی کی نغمہ سرائی سے ہوا۔ شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آر کی طرف سے کئے گئے اس طرح کے اقدامات مشترکہ تعلیمی اہداف کو فروغ دینے اور باہمی تحقیق کے مواقع تلاش کرنے کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کے لیے عزت مآب شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے فراہم کردہ فراخدلانہ تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے بعد پروفیسر اقتدار محمد کی طرف سے دعائیہ کلمات کہے گئے۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر خان نے اس طرح کی تعلیمی سرگرمیوں کی معنویت پر زور دیا۔ ڈین، آئی آر، پروفیسر اشویندر پوپلی نے بین الاقوامی دفتر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے شروع کی گئی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کے متعلق معلومات ساجھا کیں، جو اس کی عالمی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔
ڈین،۔ایف ایچ ایل،ڈین۔آئی آر اور صدر شعبہ تاریخ نے مہمان مقرر کا باقاعدہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر روہما جاوید رشید نے مہمان مقررکا باقاعدہ تعارف پیش کیا۔
اپنے سحر آفریں خطاب میں، جناب علادیدی نے ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ تاریخی اور ثقافتی روابط سے متعلق گفتگو کی۔ انہوں نے اس عام غلط فہمی کو چیلنج کیا کہ مالدیپ نوآبادیاتی مداخلت کے بعد ہی ابھرا، اس کے بجائے اس بات پر زور دیا کہ اس خطے کی تاریخ بہت قدیم ہے، جس کی ابتدا مشترکہ دور سے پہلے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ کو تاریخی حوالوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے اور یہ جنوبی ہندوستانی دراوڑی آبادیوں اور ہند آریائی آباد کاروں کے درمیان تعامل کے ذریعے ترقی پذیر ہوا تھا۔
دیدی نے مالدیپ کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی، اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہاں انیس سو ارسٹھ تک شاہی نظام رہا اور اس کا قدیم نظام حکومت منڈلم میں تقسیم تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مالدیپ کا معاشرہ اصل میں مادری تھا، جو اس بات کی بصیرت پیش کرتا ہے کہ ایسا نظام عملی طور پر کیسے کام کرتا ہے۔
اس لیکچر میں گیارہ سو ترپن میں مالدیپ میں اسلام کی آمد پر بھی روشنی ڈالی گئی، یہ بتاتے ہوئے کہ اس منتقلی کے حوالے سے متعدد نظریات موجود ہیں۔ جناب دیدی نے ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان ثقافتی روابط کی بہتر تعریف کرنے کے لیے اس تاریخی عمل کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ان مشترکہ تاریخی اور ثقافتی روابط کو استوار کرکے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں دونوں ممالک کے کردار پر غورو خوض کرتے ہوئے اس سے نتیجہ اخذ کیا۔اس کے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا، جس میں شرکا نے مقرر کے ساتھ مادری معاشرہ کے کام کاج، اسلامائزیشن کا عمل، اور عصری ہند-مالدیپ تعلقات اور اسی طرح کے موضوعات پر گفتگو کی۔پروفیسر نشاط منظر نے حاضرین نے شکریہ ادا کیا، سیشن کو معلوماتی اور دپر اثر بنانے کے لیے انہو ں نے مقررین، منتظمین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
مسٹر دیدی نے لیکچر کے بعد عزت مآب پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ پروفیسر پریتی شرما اور پروفیسر اشویندر پوپلی بھی تھے۔ انہوں نے ہندوستان مالدیپ اور مغربی ایشیا سے متعلق مختلف علمی، تاریخی تعلقات، ثقافتی وابستگی اور عصری مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شیخ الجامعہ نے مہمان کو مخطوطات سے مزین جامعہ سنٹرل لائبریری کے ذخیرے کے بارے میں معلومات ساجھا کیں۔ پروفیسر آصف نے مہمانوں کو لائبریری وسائل کے کیٹلاگ بھی تحفے میں دیے۔مجموعی طور پر علمی اعتبار سے یہ ایک بھرپور اور ثمر آور تجربہ ثابت ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais