خواتین ریزرویشن ، پارلیمنٹ میں نشستوںمیں اضافہ پر انڈیا اتحاد کے رہنما وں کی میٹنگ
نئی دہلی ، 15 اپریل (ہ س)۔ جمعرات سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس سے پہلے، اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے رہنماو¿ں نے بدھ کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی دہلی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ خواتین کے ریزرویشن قانون اور پارلیم
خواتین ریزرویشن ، پارلیمنٹ میں نشستوںمیں اضافہ پر انڈیا اتحاد کے رہنما وں کی میٹنگ


نئی دہلی ، 15 اپریل (ہ س)۔

جمعرات سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس سے پہلے، اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے رہنماو¿ں نے بدھ کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی دہلی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ خواتین کے ریزرویشن قانون اور پارلیمانی نشستوں کی تعداد میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن قانون پر عمل درآمد اور نشستوں کی تعداد بڑھانے کی حکمت عملی طے کی گئی۔

اس میٹنگ میں کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی ، کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال ، جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش ، عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ ، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی ، رکن پارلیمنٹ کپل سبل اور دیگر کئی رہنما موجود تھے۔

بل پر ممبئی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے کہا، 2023 میں متفقہ طور پر منظور ہونے والا خواتین ریزرویشن ایکٹ تاریخی تھا ، جس میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی شرکت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، ہم نے دلیل دی کہ مردم شماری کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہے ، لیکن اس وقت بھی حکومت نے ہماری بات نہیں مانی۔نشستوں کو بڑھانے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، ملک کی نصف آبادی کو محض ووٹ بینک تک محدود کردیا گیا ہے ، اس کے لیے یہ تبدیلی کا وقت ہے۔

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے مغربی بنگال کے بہرام پور میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ الیکشن کمیشن کے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ تلنگانہ، کرناٹک، ہماچل پردیش جیسی کانگریس کی حکومت والی ریاستوں اور جھارکھنڈ میں ہماری مخلوط حکومتوں میں خواتین کو پہلے ہی 2,500 سے 3,000 روپے دیے جا رہے ہیں۔ کانگریس کوئی نئی اسکیم تجویز نہیں کر رہی ہے ، لیکن دوسری ریاستوں میں پہلے سے لاگو کی گئی اسکیموں کی نقل تیار کرنے کا وعدہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں خواتین کو اس طرح کی مالی مدد فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

بھارتیہ راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راو¿ نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور اسے فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ بل میں نشستوں میں 50 فیصد اضافے کا ذکر نہیں ہے، اور پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن اور جنوبی ہندوستان کے دیگر رہنماو¿ں سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔سماج وادی مہیلا سبھا کی قومی صدر جوہی سنگھ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے اس کی حمایت کی۔ موجودہ بحث اس بات پر ہے کہ اسے کیسے نافذ کیا جائے گا، اور اس کی بنیاد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande