کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف نئے الزامات پر حلف نامہ داخل کیا۔
نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س)۔ دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے 13 اپریل کو عدالت میں اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف لگائے گئے الزامات پر حلف نامہ داخل کیا ہے۔ بدھ کو دہلی ہائی کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ
جسٹس


نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س)۔ دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے 13 اپریل کو عدالت میں اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف لگائے گئے الزامات پر حلف نامہ داخل کیا ہے۔ بدھ کو دہلی ہائی کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ میں انہوں نے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف الزامات کو دہرایا ہے اور سماعت سے ہٹنے کی مانگ کی ہے۔ کیجریوال نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ جسٹس سورن کانتا شرما کے دونوں بچے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ تشار مہتا ان کے بچوں کو کیس دیتے ہیں۔

کیجریوال کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ تشار مہتا مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل ہیں۔ ایسے میں جسٹس سورن کانتا شرما تشار مہتا کے خلاف حکم کیسے پاس کریں گے؟ اس سے قبل 13 اپریل کو اروند کیجریوال نے خود اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ سے سوال کیا تھا اور انہیں سماعت سے ہٹنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما سے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں جس طرح سے عدالتی کارروائی اب تک چلائی گئی ہے، اس سے انہیں منصفانہ انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیجریوال کی عرضی میں اس طرح کے 10 دلائل دیے گئے تھے جو تحقیقاتی ایجنسیوں کے کام کاج اور عدالتی عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔

کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف سنے بغیر سیشن کورٹ کا حکم غلط ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب 9 مارچ کو ہائی کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی تو 23 ملزمان میں سے ایک بھی موجود نہیں تھا۔ عدالت میں صرف سی بی آئی ہی موجود تھی، لیکن جسٹس سورن کانتا شرما نے پہلی ہی سماعت میں دوسری طرف کے دلائل کو سنے بغیر سیشن کورٹ کے حکم کوغلط قرار دیا ،جو ”بنیادی طور پر“ غلط معلوم ہوتا ہے۔ عدالت ریکارڈ طلب کیے بغیر اور دلائل سنے بغیر اس نتیجے پر کیسے پہنچی؟

کیجریوال نے کہا تھا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی بغیر درخواست کے روک دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کی اپیل پر 9 مارچ کو سماعت ہو رہی تھی، لیکن جسٹس شرما نے ای ڈی کی کارروائی پر بھی روک لگا دی۔ ملزم کے مطابق نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی ای ڈی نے اس کی درخواست کی تھی۔ قانونی طور پر، اگر اہم کیس میں جرم ثابت نہیں ہوتا ہے، تو ای ڈی کا کیس خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔ سیشن کورٹ نے سی بی آئی کیس کو خارج کر دیا تھا، جس سے ای ڈی کا معاملہ بھی ختم ہو جاتا، لیکن جسٹس شرما نے خود ہی اس پر روک لگا دی۔

کیجریوال نے اس کیس کو پہلے سے سوچی سمجھی سازش قرار دیا تھا اور سی بی آئی کے تفتیشی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم جسٹس شرما نے اس کارروائی پر روک لگا دی حالانکہ افسر نے اس کے لیے درخواست داخل نہیں کی تھی۔ کیجریوال نے دلیل دی کہ اس غیر فطری سرگرمی سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

کیجریوال نے عدالت کے وقت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جسٹس سورن کانتا شرما عام طور پر دیگر مقدمات کی سماعت تین سے سات ماہ کے اندر کر دیتی ہیں۔ تاہم، اس معاملے میں، انہوں نے ملزمان کو جواب داخل کرنے کے لیے صرف ایک ہفتے کا وقت دیا۔ اتنے کم وقت میں 600 صفحات کے طویل حکم اور سی بی آئی کی ایک پیچیدہ اپیل کا جواب دینا تقریباً ناممکن ہے۔

کیجریوال کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب پانچ ملزمان نے گزشتہ سال ضمانت کے لیے درخواست دی تو جسٹس شرما نے انہیں مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ قانونی طور پر، ضمانت کے مرحلے پر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جاتا ہے۔ یہ ٹرائل کے بعد ہوتا ہے۔ تاہم جسٹس شرما نے اپنے حکم میں انہیں مجرم قرار دیا، جو ان کی پہلے سے تصور شدہ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔

کیجریوال نے عرضی میں کہا کہ جسٹس سورن کانتا شرما کے ذریعہ دیے گئے ان تمام ضمانتی احکامات کو بعد میں سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ نہ صرف احکامات کو منسوخ کر دیا گیا بلکہ ملزمان کو ضمانت بھی دی گئی اور سپریم کورٹ نے بھی جسٹس شرما کے موقف پر سخت تبصرہ کیا۔ درخواست میں یہ سنگین الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جسٹس شرما سی بی آئی اور ای ڈی کے دلائل کو لفظی طور پر قبول کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے زبانی طور پر جو کچھ کہتے ہیں اس کی بنیاد پر فوری طور پر احکامات پاس کیے جاتے ہیں۔ ملزمان کا موقف ہے کہ ایجنسیوں کا ہر مطالبہ ماننے سے انصاف کی امید ختم ہوجاتی ہے۔

عدالتی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ جسٹس سورن کانتا شرما کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکیل ہیں۔ وہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ماتحت کام کرتے ہیں، جو اس کیس میں حکومت اور ایجنسیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے خاندانی رشتوں کو دیکھتے ہوئے جسٹس شرما سے منصفانہ سماعت کی امید کرنا مشکل ہے۔ درخواست میں جسٹس شرما کے نظریاتی جھکاو¿ پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس شرما نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے وکلاءونگ ایڈوکیٹ کونسل کی کم از کم چار میٹنگوں میں حصہ لیا ہے۔ چونکہ اس کیس کے ملزمان آر ایس ایس کے نظریات کے کھلے مخالف ہیں، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ جسٹس شرما کے تعصب ان کے فیصلے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

درخواست میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ انٹرویو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ شاہ نے کہا تھا کہ کیجریوال کو ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنی ہوگی۔ ملزم نے سوال کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی وزیر داخلہ کو کیسے معلوم تھا کہ فیصلہ کیجریوال کے خلاف آئے گا۔ ان کا الزام ہے کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande