
علی گڑھ, 15 اپریل (ہ س)۔
عالمی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ سے آئے طلبہ کی سلامتی اور سہولیات کو لے کر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔یونیورسٹی میں اس وقت ایران کے 6، عراق کے 24، عمان کے 11 اور یمن کے 24 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی کے ذمہ داران ان طلبہ کے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی یا مسئلے کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کی ذہنی، تعلیمی اور رہائشی ضروریات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ متعلقہ شعبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ غیر ملکی طلبہ کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔اس سلسلے میں پروکٹر پروفیسر محمد نوید خان نے بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ سے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرتی رہی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ طلبہ کسی بھی طرح کے ذہنی دباؤ یا عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی طلبہ کی سہولت کے لیے ''سنگل ونڈو سسٹم'' قائم کیا گیا ہے، تاکہ ان کے مسائل کا فوری اور مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ