
کولکاتا، 15 اپریل (ہ س)۔ جیسے جیسے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی پولنگ کی تاریخ قریب آرہی ہے، الزام تراشی کا کھیل تیز ہوتا جارہا ہے۔ دریں اثنا، گاڑیوں کی چیکنگ کو لے کر ریاست میں سیاسی صورتحال میں شدت آگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے اس معاملے پر مرکز اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ اسلام پور، شمالی دیناج پور ضلع میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی فورسز چیکنگ کے لیے دم دم ہوائی اڈے پر ان کی گاڑی تک پہنچی تھی۔
ممتا بنرجی نے کہا، مرکزی فورسز آج بھی دم دم ہوائی اڈے پر میری گاڑی کے قریب آئیں۔ میں نے خود کہا، 'تفتیش کرو، میں تحقیقات چاہتی ہوں۔' انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی گاڑیوں کی جانچ ہو رہی ہے تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی گاڑیاں کیوں نہیں؟
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ انتخابات کے نام پر یکطرفہ کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، اگر ترنمول کانگریس کے تمام رہنماو¿ں کی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماو¿ں کی گاڑیوں کی جانچ کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا انتخابات اسی طریقے سے کرائے جائیں گے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کے لیڈروں کی گاڑیوں میں منی لانڈرنگ کی جاتی ہے اور مرکزی فورسز کی گاڑیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی گاڑی کے مبینہ معائنہ سے متعلق تنازعہ نے ریاستی سیاست کو مزید گرما دیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ابھیشیک بنرجی اور ان کی اہلیہ کی گاڑی کے معائنہ کا حکم دینے کے لیے ایک واٹس ایپ پیغام کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو بیک وقت نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ اگر آپ میں ہمت ہے تو ہر روز میری گاڑی چیک کریں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، میں بی جے پی کی طرح چور یا ڈاکو نہیں ہوں، میں سیاست کرتی ہوں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومت سے تنخواہ بھی نہیں لیتی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی