
بیجنگ،12اپریل(ہ س)۔چینی حکومت کا لہجہ اب ماضی کی طرح روایتی نہیں رہا۔ انٹرنیٹ پر سخت کنٹرول کے بعد بیجنگ نے اب عالمی سطح پر اپنا بیانیہ پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (میمز) کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس کا مقصد اکثر امریکہ اور اس کے صدر کا مذاق اڑانا ہوتا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے پانچ منٹ کی ایک مختصر فلم تیار کی ہے جو مارشل آرٹس فلموں سے متاثر ہے اور ایران کی جنگ کو علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس فلم میں ایک سفید عقاب امریکہ کی نمائندگی کرتا ہے جو فارسی بلیوں کے ایک گروپ، جو ایرانیوں کی علامت ہیں، پر حملہ کرتا ہے۔ یہ کہانی تنازع، انتقام اور حکمت کی علامتوں سے بھرپور ہے۔ یہ ان متعدد حالیہ میڈیا پروڈکشنز کا حصہ ہے جن کا مقصد امریکہ کو ایک تسلط پسند عالمی طاقت کے طور پر دکھانا اور صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات یا مغربی نصف کرہ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے منصوبوں کا مذاق اڑانا ہے۔یہ رجحان چینی صدر شی جن پنگ کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر چین کا بیانیہ مضبوط کرنا اور ان مغربی بیانیوں کا مقابلہ کرنا ہے جنہیں بیجنگ اپنے خلاف متعصب سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی معلوماتی جنگ میں بھی تیزی آئی ہے جہاں واشنگٹن ان مہمات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس دوران چین تفریحی مواد کے ذریعے نوجوان نسل کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایران کی جنگ سے متعلق اس ویڈیو کو چین کے اندر بڑے پیمانے پر پزیرائی ملی اور انگریزی ترجمے کے بعد ” ایکس “ پر اسے چند ہی دنوں میں دس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ سنگھوا یونیورسٹی کے پروفیسر شی آن بن کا کہنا ہے کہ یہ چینی میڈیا کا عالمی سامعین، خاص طور پر سوشل میڈیا صارفین سے رابطے کا ایک نیا طریقہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan