
اسلام آباد، 12 اپریل (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات ناکام ہو گئے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ امریکی وفد کی قیادت کر رہے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان سے وطن روانہ ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ آج بھی بات چیت ہوگی۔ امریکہ روانہ ہونے سے پہلے وینس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ ان کی نظر میں یہ امریکہ کے مقابلے ایران کے لیے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔ اس لیے، وہ بغیر کسی معاہدے کے امریکہ لوٹ رہے ہیں۔‘‘
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 09.7 بجے ایئر فورس ٹو میں سوار ہو کر پاکستان سے امریکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت مکمل کرنے کے بعد یہ قدم اٹھایا۔ یہ بات چیت بغیر کسی معاہدے پر پہنچے ہی ختم ہو گئی۔ وینس نے اتوار کی صبح پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایران نے شرائط قبول نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کے آپریشن ’ایپک فیوری‘ شروع کیے جانے کے ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے بعد نائب صدر ہفتہ کی صبح ایران کے ساتھ بات چیت کی قیادت کرنے کے لیے پاکستان پہنچے تھے۔
ڈان اخبار کے مطابق، وینس نے دونوں ممالک کے درمیان ہوئی براہِ راست بات چیت کے بعد یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وینس نے کہا، ’’ہم گزشتہ 21 گھنٹوں سے اس پر کام کر رہے ہیں اور ہم نے سنجیدہ گفتگو کی ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔‘‘ نائب صدر نے کہا، ’’ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہمارے اہداف کیا ہیں۔ ہم نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ایران کی کن باتوں کو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ مگر ایرانی وفد نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔‘‘ وینس نے پریس کانفرنس کے آغاز میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں بہترین میزبان بتایا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ثالث کے طور پر پاکستان نے اچھا کام کیا اور سچ مچ مدد کرنے کی کوشش کی، تاکہ ہمارے درمیان کی خلیج کم ہو سکے اور کوئی معاہدہ ہو سکے۔ جب وینس سے پوچھا گیا کہ ایران نے کن باتوں کو مسترد کیا، تو انہوں نے جواب میں کہا، ’’میں تمام باتوں پر نہیں جاوں گا، کیونکہ میں 21 گھنٹے تک نجی طور پر بات چیت کرنے کے بعد اب عوامی طور پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہمیں ایک پکا یقین چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ایسے ذرائع جمع کرنے کی کوشش کریں گے جن سے وہ تیزی سے ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکیں۔‘‘
دریں اثناء، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا، ’’اسلام آباد میں وفد کے لیے یہ مصروف اور طویل دن رہا۔ اس دوران دونوں فریقین کے درمیان کئی پیغامات اور دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ بات چیت میں اہم موضوع آبنائے ہرمز، ایٹمی معاملہ، جنگی ہرجانہ، پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کا مکمل خاتمہ رہا۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن