
بغداد،12اپریل(ہ س)۔عراقی پارلیمنٹ نے ہفتے کے روز کرد سیاسی رہنما نظار امیدی کو نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ عراقی آئین کے مطابق صدر کا عہدہ ایک رسمی نوعیت کا سمجھا جاتا ہے۔ عراق کے پارلیمانی انتخابات پچھلے سال نومبر میں مکمل ہوئے تھے۔58 سالہ امیدی اس سے قبل عراق میں وزیر ماحولیات رہ چکے ہیں۔ جبکہ وہ 2024 سے کرد سیاسی جماعت 'پیٹریاٹک یونین آف کردش ' کے سربراہ بھی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ اب وزیر اعظم منتخب کرے گی۔ وزارت عظمیٰ کو عراق اور مشرق وسطیٰ میں ایک حساس معاملے کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ جو 'امریکہ فرسٹ' کے نعرے کی بنیاد پر ایک بار پھر وائٹ ہاو¿س آئے ہیں انہوں نے جنوری میں دھمکی دی تھی کہ عراقی پارلیمنٹ نے نورالمالکی کو وزیر اعظم منتخب کیا تو واشنگٹن عراق کے لیے اپنی مدد اور حمایت روک دے گا۔حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد شیعہ جماعتوں نے نورالماکی کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔ عراقی جماعتوں کے اس اعلان کی امریکی صدر سمیت سب رہنماو¿ں نے مخالفت کی ہے۔ امریکی سمجھتے ہیں کہ نورالمالکی ایران کی حمایت کرنے والے رہنما چابتے ہوں گے اس لیے انہیں ایک بار پھر وزیر اعظم نہ بنایا جائے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے دوران عراق میں ایران کی حامی ملیشیائیں بھی مسلسل امریکی فوجی اڈے و دیگر تنصیبات کے لیے خطرہ بنے رہے ہیں۔
اب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن میں دو ملکوں کی اعلی قیادت کے اہم عہدے دار شریک ہیں۔ اب تک اطلاعات کے مطابق بیس گھنٹے سے زائد پر محیط سلسلہ کچھ دیر پہلے تک جاری تھا۔ادھر عراقی سیاسی نظام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کا سامنا رہتا ہے۔ کہ اس میں شیعہ سنی فرقوں کے علاوہ ایک کرد کمیونٹی بھی کرد آبادی کے علاقوں میں اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ سیاسی نظام میں یہ لازم بنایا گیا ہے کہ عراق کا وزیر اعظم شیعہ فرقے سے لیا جائے گا۔ جبکہ پارلیمنٹ کا سپیکر سنی فرقے سے لیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan