فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے 47.20 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی، تین ملزمان گرفتار
نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ فرضی آن لائن انویسٹمنٹ پلیٹ فارم کے ذریعے 47.20 لاکھ روپے کی ٹھگی کرنے والے منظم گروہ کا کرائم برانچ نے پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے جیند سے وشال چوہان، جے پور (راجستھان) کے ریتوک یادو اور اتر پ
CRIME-BRANCH-CYBER-FRAUD-INVES


نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ فرضی آن لائن انویسٹمنٹ پلیٹ فارم کے ذریعے 47.20 لاکھ روپے کی ٹھگی کرنے والے منظم گروہ کا کرائم برانچ نے پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے جیند سے وشال چوہان، جے پور (راجستھان) کے ریتوک یادو اور اتر پردیش کے مین پوری کے رہنے والے پریال پرتاپ یادو کو دہلی کے کنگس وے کیمپ علاقے سے گرفتار کیا ہے۔

کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس آدتیہ گوتم نے اتوار کو بتایایہ معاملہ ای -ایف آئی آر نمبر 00030/2025 سے متعلق ہے، جو سائبر تھانہ، ساﺅتھ ویسٹ ڈسٹرکٹ میں درج کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کو ایک جعلی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے حصص، ایکوئٹی اور آئی پی او میں سرمایہ کاری کا وعدہ دے کر بڑی رقم کا دھوکہ ٹھگ لی گئی۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، تحقیقات کے دوران میسرز اورنج ہربس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے چلنے والے ایک بینک اکاو¿نٹ کا پتہ چلا، جس میں ٹھگی کی رقم میں سے تین لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ اکاو¿نٹ سائبر فراڈ کے 12 کیسز سے منسلک تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ ایک”لیئر-1“ اکاو¿نٹ تھا جو دھوکہ دہی کی رقم کو دوسرے اکاو¿نٹس میں منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر کرائم برانچ کی ٹیم نے ہریانہ، پنجاب، چنڈی گڑھ اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے۔اس دوران جیند کے رہنے والے وشال چوہان کو گرفتار کر لیاگیا، جس نے کمیشن کے لالچ میں،اپنے بینک اکاو¿نٹ کی تفصیلات، سم کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور چیک بک گینگ کو فراہم کی تھی۔ اس کے بدلے میں اسے پچاس ہزار روپے ملے۔ اس کے پاس سے تین موبائل فون برآمد ہوئے۔

رتوک یادو نے اس نیٹ ورک میں ایک بچولئےکے طور پر کام کیا۔ اس نے بینک اکاو¿نٹس اور سم کارڈز اکٹھے کر کے دوسرے ملزموں کے حوالے کر دیے۔ جبکہ پریال پرتاپ یادو، ان کھاتوں اور سم کارڈوں کو دھوکہ دہی والے رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کرنے میں ملوث تھا۔ اس کے پاس سے ایک موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گروہ 25 سے 40 فیصد کمیشن کے لیے افراد اور فرموں کے بینک اکاو¿نٹس لے کر ان کا استعمال سائبر فراڈ کی رقم کو ٹھکانے لگانے کے لیےکرتا تھا، تاکہ تفتیش سے بچا جاسکے۔

فی الحال دو ملزمان عدالتی حراست میں ہیں۔ تفتیش جاری ہے۔ پولیس دیگر ملزمان کو تلاش کر رہی ہے اور گینگ کے پورے نیٹ ورک کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن انویسٹمنٹ پلیٹ فارم سے ہوشیار رہیں جو انہیں زیادہ منافع کے وعدوں سے لالچ دیتے ہیں اور کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے ان کی ساکھ کی تصدیق کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande