سائبر فراڈ میں بینک ملازم کا ملوث ہونا بے نقاب، گرفتار
نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سائبر فراڈ کے ایک بڑے معاملے میں بینک ملازم کو گرفتار کرکے ایک منظم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت غازی آباد (یوپی) کے رہنے والے ارشاد ملک (35) کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ آر بی ایل
CRIME-BRANCH-BANK-EMPLOYEE-ARR


نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سائبر فراڈ کے ایک بڑے معاملے میں بینک ملازم کو گرفتار کرکے ایک منظم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت غازی آباد (یوپی) کے رہنے والے ارشاد ملک (35) کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ آر بی ایل بینک میں ملازم تھا اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے، جعلی بینک اکاؤنٹس کھول کر دھوکہ دہی کی رقم کو ٹھکانے لگانے میں مدد کر رہا تھا۔

کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ہرش اندورا نے اتوار کو جانکاری دیتے ہوئےبتایا کہ ملزم نے بغیر مناسب کے وائی سی تصدیق کے ”لاری ٹریڈ ایگزم“ کے نام پر ایک بینک اکاو¿نٹ کھولا تھا۔ اس اکاو¿نٹ کو سائبر فراڈ کی رقم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس اکاو¿نٹ کے ذریعے متعدد متاثرین سے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کی گئی ۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، یہ معاملہ سائبر پولیس اسٹیشن، دوارکا میں درج ایف آئی آر نمبر 138/23 سے متعلق ہے، جس میں او ٹی پی کے بغیر پولیس افسر کے ایس بی آئی اکاو¿نٹ سے دھوکہ دہی سے 88,000 روپے نکالے گئے تھے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ فراڈ شدہ رقوم آر بی ایل بینک کے مذکورہ اکاو¿نٹ میں منتقل کی گئی۔ اس کے بعد تفتیش کرائم برانچ کو سونپ دی گئی۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ منموہن سنگھ کے نام پر جعلی دستاویزات کا استعمال کرکے اکاؤنٹ کھولا گیا۔ ایف ایس ایل رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ دستخط فرضٰ تھے۔ اس کے ساتھ ہی ، تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ منموہن سنگھ نے ملازمت دلانے کے بہانے اپنے دستاویز شریک ملزم ہرجیندر عرف ہرجی کو فراہم کیے تھے، جن کاغلط استعمال کرکے اس اکاؤنٹ کو کھولا گیا۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، کرائم برانچ کو 10 اپریل کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم ارشاد ملک نیو فرینڈز کالونی میں واقع آر بی ایل بینک آنے والا ہے۔ اس کے بعد ٹیم نے تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر بینک پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم نے فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو پارٹ ٹائم نوکریوں کا وعدہ کرکے ٹیلی گرام گروپس میںجوڑتے تھے۔

ابتدائی منافع کا وعدہ کرکے ان کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد، انہیں بڑی رقم کی سرمایہ کاری پر مجبور کیا گیا۔ رقم وصول کرنے کے بعد ملزمان گروپ بند کر کے فرار ہو جاتے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق، اس معاملے میں چار ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس وقت ضمانت پر باہر ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے اور پورے نیٹ ورک کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande