چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کی تیاری کا انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف
بیجنگ،11اپریل (ہ س)۔ایران اور امریکہ پاکستان کے دارالحکومت میں امن مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، ان حالات میں تین باخبر ذرائع نے تازہ انٹیلی جنس جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ای
چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کی تیاری کا انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف


بیجنگ،11اپریل (ہ س)۔ایران اور امریکہ پاکستان کے دارالحکومت میں امن مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، ان حالات میں تین باخبر ذرائع نے تازہ انٹیلی جنس جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی نظاموں کی ایک کھیپ فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ بیجنگ ان ترسیلات کو تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کی اصل شناخت چھپائی جا سکے، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چین جن نظاموں کو ایران منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، وہ کندھے سے فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل ہیں، جنہیں MANPADS کہا جاتا ہے۔یہ نظام امریکی فوجی طیاروں کے لیے غیر متناسب خطرہ بن سکتے ہیں ،جو جنگ کے دوران کم اونچائی پر پرواز کرتے رہے اور اگر جنگ بندی ٹوٹتی ہے تو دوبارہ اسی نوعیت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی دوران واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین نے کبھی بھی کسی فریق کو اسلحہ فراہم نہیں کیا اور یہ معلومات درست نہیں ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ چین ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی کرتا ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے سے گریز کرے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایران کے اوپر گرائے گئے ایف-15 طیارے کو کندھے سے فائر کیے جانے والے حرارت سے رہنمائی لینے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری جانب تہران نے کہا کہ اس نے ایک نیا دفاعی نظام استعمال کر کے طیارہ مار گرایا، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب چین نے کچھ روز قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ماہ چین کے دورے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande