
اسلام آباد، 11 اپریل (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتے کے روز اسلام آباد، پاکستان کے سرینا ہوٹل میں شروع ہوئے، جس کا مقصد مغربی ایشیا میں فوجی تنازع کو مستقل طور پر روکنا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں اور ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے ا سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مذاکرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں آج امریکہ ایران مذاکرات جاری ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کی طرف سے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں، ان کے ساتھ خصوصی ایلچی ا سٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہیں۔ قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ہیں۔
28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایک بڑا مشترکہ فوجی حملہ کیا، جس میں جوہری مقامات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے۔ اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود تھے۔ امریکہ نے نیٹو ممبران سے مدد مانگی لیکن نیٹو ممبران نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرکے امریکا اور اسرائیل کو مذاکرات پر مجبور کردیا۔ ایران کے موقف نے گیس اور تیل کا عالمی بحران پیدا کر دیا۔ جس کے بعد امریکہ نے 8 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا۔ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کی ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنا ہے۔ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے شرائط رکھی ہیں، جن میں لبنان میں جنگ بندی، ایرانی اثاثوں کو غیر مسدود کرنا اور پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی