
دمشق،11اپریل(ہ س)۔شامی حکومتِ سابقہ کے دور میں گرفتار یا لاپتہ ہونے والے بچوں کا معاملہ اب بھی شام کے اندر اور باہر سینکڑوں خاندانوں کے لیے ایک بڑا دکھ بنا ہوا ہے۔شام کی وزیر برائے سماجی امور و محنت ہند قبوات نے انکشاف کیا ہے کہ بشار الاسد کے دور کے دوران لاپتہ یا جبری طور پر غائب کیے گئے افراد کے بچوں میں سے 194 بچوں کو ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت کے زیرِ انتظام مراکز میں رکھے گئے ،بچوں کے 314 کیسز کی دستاویز بندی کی گئی تھی، جن میں سے 194 بچوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملا دیا گیا ہے، جبکہ باقی کیسز کی جانچ پڑتال اور تلاش کا عمل جاری ہے، جیسا کہ شامی خبر رساں ایجنسی ''سانا'' نے رپورٹ کیا۔وزیر کے مطابق کمیٹی اس وقت 612 ایسے کیسز پر بھی کام کر رہی ہے، جن میں بچوں کو شامی قوانین کے تحت دوسرے خاندانوں کے سپرد کیا گیا تھا، تاکہ ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2011 سے 2015 کے درمیان کے کیسز کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ باقی سالوں کے ریکارڈ کی چھان بین کا عمل بھی جاری ہے۔اسی حوالے سے وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چائلڈ کیئر اور فلاحی اداروں کے انتظامات میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات کی گئی ہیں۔وزیر نے کہا کہ وزارت کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں تاکہ وہ اس تلاش کی کوششوں میں حصہ لے سکیں، خاص طور پر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ جبکہ معلومات اور سوالات کے جواب کے لیے ہاٹ لائن نمبرز بھی دستیاب ہیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ وزارت کے سرکاری صفحات کو فالو کریں، جہاں کمیٹی کی کارروائیوں سے متعلق باقاعدہ اپ ڈیٹس جاری کی جاتی ہیں۔وزیر نے اہلِ خانہ کے خدشات، تنقید، غصے اور دکھ کو سمجھنے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اس معاملے میں مکمل طور پر ان کی شریک ہے۔یہ مسئلہ ان اہم ترین فائلز میں سے ایک ہے، جسے شامی نئی انتظامیہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو جوابدہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس نے ہزاروں شامی خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔اس کی ایک معروف مثال ڈاکٹر رانیہ العباسی اور ان کے چھ بچوں کا لاپتہ ہونا ہے۔تحقیقات کا مقصد ان سینکڑوں بچوں کا سراغ لگانا ہے ،جو اپنے والدین کی حراست کے دوران یا سرکاری مراکز میں قیام کے دوران لاپتہ ہو گئے۔یاد رہے کہ اس کیس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے جنوری میں ابتدائی نتائج جاری کیے تھے، جن میں سینکڑوں بچوں سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے تھے اور یہ بھی بتایا گیا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے بچوں کی شناخت چھپانے کی منظم کوششیں کی گئیں۔مزید یہ کہ جولائی 2025 میں اس کمیٹی نے اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کیا اور تلاش، تحقیق اور معلومات کی تصدیق کے لیے آئندہ منصوبہ بندی بھی پیش کی تاکہ ان بچوں کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan