دہلی میں سائبر جعلسازی کے بڑے گروہ کا پردہ فاش، 14 ملزمان گرفتار
نئی دہلی، 11 اپریل (ہ س)۔ جنوب مغربی ضلع کی سائبر تھانہ پولیس نے بین ریاستی سطح پر سرگرم سائبر جعل سازوں کے ایک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 14 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ یہ گروہ میول بینک کھاتوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو لوٹ رہا تھا اور غیر قانونی گی
دہلی پولیس کا لوگو


نئی دہلی، 11 اپریل (ہ س)۔ جنوب مغربی ضلع کی سائبر تھانہ پولیس نے بین ریاستی سطح پر سرگرم سائبر جعل سازوں کے ایک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 14 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ یہ گروہ میول بینک کھاتوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو لوٹ رہا تھا اور غیر قانونی گیمنگ ایپس کے ذریعے لوٹی گئی رقم کی منتقلی کر کے اس کے اصل ذرائع کو چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔ پولیس نے چھاپہ ماری کے دوران ملزمان کے قبضے سے 79 ہزار روپے نقد، 28 موبائل فون، 17 پاس بک، تین لیپ ٹاپ اور 23 اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیے ہیں۔

جنوب مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس امت گوئل نے ہفتہ کو بتایا کہ، علاقے میں سرگرم چند مشکوک بینک کھاتوں کی جانچ پڑتال کے دوران اس منظم گروہ کے بارے میں سراغ ملا۔ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان فرضی سرمایہ کاری اسکیموں، پارٹ ٹائم ملازمتوں کی پیشکش اور دیگر آن لائن ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ فراڈ کی رقم کو میول کھاتوں میں منتقل کرنے کے بعد اسے مختلف سطحوں پر گھمایا جاتا تھا، تاکہ تفتیشی ایجنسیاں اس کا سراغ نہ لگا سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گروہ کے ممبران سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو جھانسے میں لیتے تھے اور انہیں بھاری کمیشن کا لالچ دے کر ان کے بینک کھاتے، سم کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈ حاصل کر لیتے تھے۔ بعد ازاں انہی کھاتوں کو سائبر فراڈ کی رقم نکالنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

معاملے کی گہرائی سے تفتیش کے لیے انسپکٹر پرویش کوشک کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم نے تکنیکی تجزیے اور مالیاتی لین دین کی کڑیوں کو جوڑتے ہوئے سب سے پہلے محمد فیض کو پکڑا۔ اس سے ہونے والی پوچھ گچھ کی روشنی میں اس کے چچازاد بھائی محمد فہد کو شاہین باغ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

تفتیش کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے پولیس نے نوئیڈا، فرید آباد اور غازی آباد میں چھاپے مار کر شعیب ربانی، ستیندر راٹھور، شنی پال اور پریتم کمار سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس دوران ابھشیک مشرا اور ابھشیک سنگھ کے نام بھی سامنے آئے، جو بڑے پیمانے پر میول کھاتوں کی فراہمی میں ملوث تھے۔

کارروائی کے دوران لکشمی نگر میں واقع ایک کال سینٹر کا بھی انکشاف کیا گیا، جہاں سے چھ ملزمان آن لائن سٹے بازی کی ایپ چلا رہے تھے۔ یہاں سے پولیس نے تین لیپ ٹاپ، 19 موبائل فون، 17 پاس بک، 23 اے ٹی ایم کارڈ، نو سم کارڈ اور 79 ہزار روپے نقد برآمد کیے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس امیت گوئل کے مطابق اس گینگ کا سرغنہ مکل ملک ہے، جو پورے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا اور ہینک نام کے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے اپنی حقیقی شناخت چھپانے کے لیے گیمنگ اکاونٹس کے ذریعے فراڈ کی گئی رقوم منتقل کیں، اس طرح تفتیشی اداروں کو گمراہ کیا گیا۔

گرفتار شدگان میں بعض طلباء، ڈیلیوری بوائز اور ٹیلی کالرز بھی شامل ہیں، جو محض چند روپوں کے لالچ میں اس کالے دھندے کا حصہ بنے۔ پولیس نے باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے اور اب تک 15 مختلف سائبر شکایات کے تانے بانے اس گروہ سے جوڑے جا چکے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے لالچ میں آکر اپنے بینک کھاتے یا ذاتی تفصیلات کسی اجنبی سے شیئر نہ کریں، تاکہ وہ اس طرح کی جعلسازی کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande