ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں تاخیر متوقع
اسلام آباد،11اپریل(ہ س)۔اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں امریکی اور ایرانی مذاکرات جنگ کے خاتمے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری ہیں، دونوں فریق اپنے اپنے موقف اور شرائط سامنے رکھ رہے ہیں۔اسی دوران یہ قیاس آرائیاں بڑھتی ج
ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں تاخیر متوقع


اسلام آباد،11اپریل(ہ س)۔اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں امریکی اور ایرانی مذاکرات جنگ کے خاتمے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری ہیں، دونوں فریق اپنے اپنے موقف اور شرائط سامنے رکھ رہے ہیں۔اسی دوران یہ قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں کئی ہفتے بلکہ شاید مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ایک امریکی ذرائع نے وضاحت کی کہ نظریاتی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا: ایرانیوں کے رویے نے انہیں ناراض کر دیا ہے، وہ کسی حد تک انہیں مشکل میں ڈال رہے ہیں، جیسا کہ ویب سائٹ اکسیوس نے نقل کیا۔امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی بامعنی پیش رفت ہو سکے گی یا نہیں، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ محض رسمی ملاقات سے بڑھ کر ہوگا۔ان کے مطابق کسی معاہدے تک پہنچنے میں ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر مہینے لگ سکتے ہیں اور غالب یہی امکان ہے کہ اس کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع درکار ہوگی۔تاہم ایک امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک نہیں ہوگی، جب تک امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو اپنے ملک کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں، پاکستان میںکسی ٹھوس پیش رفت کے ساتھ نہ آئیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وینس کی روانگی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اس معاملے میں سنجیدہ ہے، لیکن کچھ حکام کو خدشہ ہے کہ اتنے اعلیٰ سطح کے عہدیدار کو بھیجنا قبل از وقت ہو سکتا ہے، کیونکہ مذاکرات کے لیے ابھی تک خاطر خواہ بنیادیں تیار نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب ایرانی وفد جس کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، مذاکرات میں دباو¿ ڈالنے کے حربے استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے، یہ بات ایران سے مذاکرات کا تجربہ رکھنے والے سابق امریکی حکام نے بتائی۔ان حکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کا مسلسل اثر و رسوخ جو توانائی کی ترسیل کا دنیا کا اہم ترین راستہ ہے، ایرانی قیادت کو مذاکرات میں ایک نیا دباو¿ کا ذریعہ فراہم کر رہا ہے، جیسا کہ ''وال اسٹریٹ جرنل'' نے رپورٹ کیا۔ایرانی جوہری معاہدے پر مذاکرات کرنے والی امریکی ٹیم کے سابق رکن ایلن آئر نے کہا: ایران کو شدید فوجی نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے پاس اس وقت ابنائے ہرمز کی شکل میں ایک طرح کا ''جوہری ہتھیار'' موجود ہے۔ادھر امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران چالاکی یا فریب کاری سے گریز کرے۔جمعہ کی شام اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کے پاس دباو¿ ڈالنے کے لیے کوئی خاص وسائل نہیں اور ان کے لیے زندہ رہنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہے۔

یاد رہے کہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی، جس کا اعلان پاکستان نے گزشتہ بدھ کی صبح کیا تھا، سے قبل ایران نے تنازع کے حل کے لیے 10 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔اس میں آبنائے ہرمز کی نئی حیثیت کا تعین، یورینیم کی افزودگی کو قبول کرنا (اور اس کی سطح پر بات چیت) تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بندی اور جنگی نقصانات کا ازالہ شامل تھا۔ابتدا میں ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایرانی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ دہرا دیا۔اس دوران اس بات پر بھی ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا ایک سے زائد منصوبے زیر غور ہیں یا امریکی اور ایرانی مو¿قف میں کسی حد تک اختلاف موجود ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande