
واشنگٹن،11اپریل(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کو مذاکرات کے دوران دھوکہ دہی سے بچنے کی تنبیہ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی فریق کے ساتھ بات چیت کے آغاز کو دو اقدامات کی تکمیل سے مشروط کر دیا ہے۔ ان اقدامات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔ یہ دو اقدامات لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واگزاری ہیں۔
انہوں نے ” ایکس “ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ اقدامات فریقین کے وعدوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کی شرائط اور جاری لڑائی پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے درمیان ان شرائط کی تکمیل سے پہلے مذاکرات شروع نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین کے درمیان باہمی طور پر طے پانے والے اقدامات میں سے دو پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی۔ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ان دونوں امور پر عمل درآمد ضروری ہے۔
دوسری جانب سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا ہے کہ امریکہ اپنے ان وعدوں پر عمل کرے جن کے تحت لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنا اور اس پر اسرائیلی حملے رکوانا شامل ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جے ڈی وینس نے اسلام آباد روانگی کے لیے جہاز پر سوار ہونے سے قبل اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی تہران کو اپنے ملک کو دھوکہ دینے کے خلاف بھی متنبہ کیا۔واشنگٹن سے روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کے منتظر ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ مثبت ہوں گے۔ جیسا کہ امریکی صدر نے کہا ہے، اگر ایرانی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تو ہم یقیناً کھلے دل سے استقبال کے لیے تیار ہیں لیکن اگر انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو وہ دیکھیں گے کہ مذاکراتی ٹیم اتنی نرم نہیں ہے۔
لبنان کے معاملے پر اور اس بارے میں کہ آیا وہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس عارضی جنگ بندی میں شامل ہے جس کا اعلان بدھ کی صبح پاکستان نے کیا تھا، کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے تصدیق کی تھی کہ دو ہفتوں کی اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔تاہم بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وینس نے اعلان کیا کہ لبنان اس میں شامل نہیں ہے۔ پھر باخبر امریکی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر لبنانی سرزمین پر حملے کم کرنے کے لیے دباو¿ ڈالا جس کے بعد نیتن یاہو نے گزشتہ جمعرات کی شام ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ انہوں نے لبنانی حکام کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan