
واشنگٹن،11اپریل(ہ س)۔امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ وہ ان تمام بارودی سرنگوں کے مقامات کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہے، جو وہاں بچھائی گئی تھیں۔جبکہ ایران کے پاس ان کے خاتمے کے لیے مطلوبہ تکنیکی صلاحیت بھی موجود نہیںہے۔حکام کے مطابق یہ پیش رفت ان اہم وجوہات میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے تہران امریکی دباو¿ کے باوجود آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کرنے پر فوری طور پر آمادہ نہیں ہو رہا۔
یہ صورتحال پاکستان میں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے متوقع مذاکرات سے قبل ایک اضافی پیچیدگی بھی پیدا کر رہی ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، جس کے نتیجے میں اس اہم گزرگاہ سے تیل بردار ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔مزید یہ کہ ان بارودی سرنگوں کے ساتھ ساتھ ڈرون اور میزائل حملوں کی دھمکیوں نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور اس صورتحال نے تہران کو عسکری اور سفارتی تناظر میں ایک مضبوط دباو¿ کا ذریعہ فراہم کیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد تہران نے عملاً آبنائے ہرمز بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہو گیا۔اس کے بعد امریکہ نے اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کو مذاکرات کی بنیادی شرط قرار دیا۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز نے 19 مارچ کو ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کی کوششوں میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے کسی بھی براہِ راست فوجی مداخلت کو خارج از امکان قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan