امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے رویے کی تنقید کی
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے رویے کی تنقید کی استنبول، 10 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے موجودہ سی
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری (فائل فوٹو)


امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے رویے کی تنقید کی

استنبول، 10 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے موجودہ سیز فائر کو ’انتہائی ڈھیلا ڈھالا‘ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالات آگے چل کر عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران بین الاقوامی تیل کی فراہمی اور اقتصادی استحکام کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو طویل عرصے سے امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جانب دھکیلتے رہے ہیں، جبکہ سابق صدور براک اوباما اور جو بائیڈن نے ایسی تجاویز کو پہلے مسترد کر دیا تھا۔ ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’انادولو ایجنسی‘ (اے اے) نے بوسٹن پبلک ریڈیو پر دیے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے وارننگ دی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا رویہ بڑے عالمی اور معاشی نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے موجودہ دو ہفتوں کے سیز فائر پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’انتہائی ڈھیلا ڈھالا‘ قرار دیا۔

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری، جو ایک سابق سینیٹر بھی ہیں، انہوں نے سال 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہیلری کلنٹن کے بعد، کیری نے 2013 سے 2017 تک اوباما کے دورِ اقتدار میں وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بڑے نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ چونکا دینے والا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے جیسے یہ آگے بڑھے گا یہ اور بھی سنگین اور خطرناک ہوتا جائے گا۔ آبنائے ہرمز اب ایران کے کنٹرول میں ہے، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ان کے کنٹرول میں نہیں تھا۔

سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس جنگ کو آگے بڑھانے والے اگلے اقدامات سے عالمی معیشتوں کو ہونے والے خطرے کے بارے میں سوچنا بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ اس کا معاشی اثر اتنا بڑا اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، جتنا ہم نے پہلے کبھی نہیں جھیلا۔ عالمی تیل کی نقل و حمل کے ایک اہم راستے، آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے جان کیری نے سیز فائر کی پاسداری کے حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خبروں کے مطابق، جب سے یہ ’جنگ بندی‘ شروع ہوئی ہے، تب سے تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت محدود ہی رہی ہے۔

جان کیری نے دلیل دی کہ ٹرمپ اس تنازعہ کو شروع کرنے کے لیے کسی کے اثر میں آ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں، یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اصل میں وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے اس پرانے خواب کو پورا کر رہی ہے، جس کے تحت وہ ایران کو اتنا نقصان پہنچانا چاہتے تھے، جتنا انہیں کرنے کی اجازت ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو فوجی کارروائی کی جانب موڑا۔ نیتن یاہو نے پہلے بھی سابق صدر جو بائیڈن اور براک اوباما سے ایران پر اسی طرح کے حملے کرنے کی اپیل کی تھی لیکن ان دونوں نے ہی ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا اور کشیدگی بڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔

کیری نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس تنازعہ سے پہلے ایران سے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایران کی صلاحیتوں کو محدود رکھنے کا سہرا کچھ حد تک 2015 کے جوہری معاہدے کے سر باندھا۔ کیری نے اس کثیر الجہتی جوہری معاہدے پر مذاکرات کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس سے ٹرمپ نے 2017 میں یکطرفہ فیصلہ لیتے ہوئے امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے اس قدم نے ہی اس سال ہونے والی جنگ کی زمین تیار کی۔ کچھ لوگ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے رکھی گئی شرائط، کافی حد تک 2015 کے معاہدے کی شرائط جیسی ہی ہیں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت اور سفارت کاری میں ایک ’تزویراتی خلیج‘ موجود ہے۔ انہوں نے مذاکرات کو سنبھالنے کے لیے واشنگٹن کی صلاحیت پر سوال اٹھائے اور آگاہ کیا کہ امریکی بیان بازی کے حوالے سے عالمی سطح پر جو تاثر بن رہا ہے، وہ امن کی سمت میں کی جانے والی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande