
بہار میں چھ دوستوں نے مل کر ایک دوست کو دو ٹکڑے میں کاٹ ڈالا، وی ٹی آر جنگل میں چار دن بعد لاش ملی
بگھا، 10 اپریل(ہ س)۔ بہار کے مغربی چمپارن ضلع کے بگھا میں دوستی کے نام پر وحشیانہ قتل نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نورنگیہ تھانہ علاقے کے جارالیہ گاؤں کے رہنے والے 47 سالہ مراری یادو کی سر کٹی ہوئی لاش والمیکی ٹائیگر ریزرو (وی ٹی آر) کے ہردیا چنتی جنگلاتی علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ قاتلوں نے شناخت چھپانے کے لیے لاش کو دو ٹکڑے کر کے الگ الگ جگہوں پر دفن کر دیا۔
گزشتہ اتوار کے روز مراری یادو کو اس کے چھ دوستوں نے گھر سے باہر بلایا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ ان کے ساتھ گیا لیکن واپس نہیں آیا۔ گھر والوں نے دوستوں سے رابطہ کیا تو سب نے ٹال مٹول سے جواب دیا۔ اس سے شک پیدا ہوا اور انہوں نے تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی جس میں قتل اور لاپتہ افراد کا شبہ ہے۔ شکایت کے بعد پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ،لیکن اس دوران شک کو مزید ہوا دیتے ہوئے تمام دوست گھر سے فرار ہوگئے۔
پولیس کو اطلاع ملی کہ وی ٹی آر کے ہردیا چنتی جنگلاتی علاقے میں مشتبہ سرگرمی دیکھی گئی ہے جس کی بنیاد پر تلاشی مہم شروع کی گئی۔ تلاشی کے دوران پولیس نے زمین کی کھدائی کی اور لاش برآمد کرلی۔ بعد میں آس پاس کے جگہوں کی تلاشی کے بعد سر بھی دوسری جگہ سے برآمد ہوئی ۔ ملزم نے قتل کے بعد لاش کو دو حصوں میں کاٹ کر دفن کر دیا تھا۔ مرنے والے کی شناخت مراری یادو کے طور پر کی گئی ہے۔
لاش کی برآمدگی کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ اس وحشیانہ واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ دوست کس حد تک درندگی کر سکتے ہیں۔ علاقہ میں ابھی بھی خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بگھا پولیس سپرنٹنڈنٹ نرملا کماری جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا قریب سے معائنہ کیا۔ انہوں نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے لاش کو مجسٹریٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) ٹیم کو شواہد اکٹھا کرنے میں تیزی لانے کے لیے بلایا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
مفرور ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ملزمین کے دوستوں کی شناخت ہوئی ہے تاہم قتل کے پیچھے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی ہے۔ لواحقین کے بیانات، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ایف ایس ایل رپورٹ کی بنیاد پر مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ہی سارا معاملہ سامنے آئے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan