پاکستانی وزیر دفاع کے بیان پر اسرائیل کا سخت ردعمل، کہا۔ دہشت گردوں سے ملک کا دفاع کرتے رہیں گے
پاکستانی وزیر دفاع کے بیان پر اسرائیل کا سخت ردعمل، کہا۔ دہشت گردوں سے ملک کا دفاع کرتے رہیں گے تل ابیب، 10 اپریل (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتہ کو اسلام آباد میں مجوزہ ملاقات سے قبل اسرائیل اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف سخت ردعمل کا ا
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان


پاکستانی وزیر دفاع کے بیان پر اسرائیل کا سخت ردعمل، کہا۔ دہشت گردوں سے ملک کا دفاع کرتے رہیں گے

تل ابیب، 10 اپریل (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتہ کو اسلام آباد میں مجوزہ ملاقات سے قبل اسرائیل اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے پاکستان کے وزیر دفاع کے تبصرے نے اسرائیل کو بے چین کر دیا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے لبنان پر حملے کے تناظر میں اسرائیل کو ’کینسر زدہ ملک‘ قرار دیا، جسے اسرائیل نے ’شرمناک اور قابلِ مذمت‘ کہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

تل ابیب اور اسلام آباد کے درمیان بیانات کی تلخی اس وقت نئے سرے سے بڑھی جب جمعرات کو پاکستانی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اسرائیل کو شیطان اور انسانیت پر دھبہ قرار دیتے ہوئے لکھا- جہاں اسلام آباد میں امن کی باتیں ہو رہی ہیں وہیں، وہ لبنان میں قتلِ عام کر رہا ہے۔ پہلے غزہ میں بے گناہ لوگوں کو مار رہا تھا اور اب لبنان میں یہی کر رہا ہے۔ جن لوگوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے فلسطینیوں کی زمین پر اس کینسر نما ملک کو بنایا ہے وہ جہنم میں جلیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر نے ایکس پوسٹ کر کے پاکستانی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خاتمے کی خواہش انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔ خاص طور پر اس حکومت سے جو خود کو امن کی ثالث بتاتی ہو، اس سے ایسے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ گدیون سار نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اسرائیل ’امن کی ثالثی‘ کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے یہودی مخالف خونی الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہودی ریاست کو ’کینسر زدہ‘ کہنا عملی طور پر تباہی کی پکار ہے۔ اسرائیل ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا جو اسے تباہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیل نے بدھ کی رات لبنان میں تابڑ توڑ فضائی حملے کرتے ہوئے 10 منٹ کے اندر 100 سے زیادہ ٹھکانوں پر حملے کیے۔ حملے میں 250 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ بندی کے باوجود لبنان کے مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری ہے۔ اسرائیل نے اس فضائی حملے کو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا ہے۔

تاہم اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کی شام کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ ’جلد از جلد‘ بات چیت شروع کرے گا، جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ممالک کے درمیان ایک مکمل امن معاہدے پر پہنچنا ہے۔ لبنان پر اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملے کے ایک دن بعد بنجامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، ”اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت شروع کرنے کے لیے لبنان کی بار بار کی گئی اپیلوں کے پیشِ نظر میں نے کل کابینہ کو لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست بات چیت شروع کرنے کی ہدایت دی۔ مذاکرات حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے پر مرکوز ہوں گے۔“

لبنان پر اسرائیل کا تازہ حملہ، ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کے دوران بھی موضوع بن سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان مانتے ہیں کہ لبنان بھی اس بات چیت کے دائرے میں ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل، لبنان کے مسئلے کو ایران سے الگ ہٹ کر دیکھتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande