اسرائیل لبنان کے درمیان جنگ بندی کی امید، مارکو روبیو کے دفتر میں لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کی ملاقات
واشنگٹن،10اپریل(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے متوازی گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنان کے معاملے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا ہے کہ لبنانی فائل امریکی انتظامیہ کے اندر توجہ کا مرکز بن گئ
اسرائیل لبنان کے درمیان جنگ بندی کی امید، مارکو روبیو کے دفتر میں لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کی ملاقات


واشنگٹن،10اپریل(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے متوازی گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنان کے معاملے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا ہے کہ لبنانی فائل امریکی انتظامیہ کے اندر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ پیش رفت بیروت میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے جو اس وقت واشنگٹن میں موجود ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ لبنان کو آئندہ مرحلے کے سیاسی اور سکیورٹی حسابات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں واشنگٹن آئندہ منگل کو سفیروں کی سطح پر ایک ابتدائی اجلاس کی میزبانی کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ اس موقع پر واشنگٹن میں لبنان کی سفیرہ ندی حمادہ اسرائیلی سفیر یحیئیل لیٹیر سے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دفتر میں ملاقات کریں گی۔ اس قدم کو دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔بعد ازاں ایک لبنانی وفد سفیر سیمون کرم کی سربراہی میں اس عمل کو آگے بڑھائے گا جس کے لیے سکیورٹی، سیاسی اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی تاکہ معلق فائلوں کو حل کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت لبنانی صدر جوزف عون کی درخواست پر کیا گیا ہے جنہوں نے دو راستوں پر زور دیا ہے۔ پہلا اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز اور دوسرا لبنان کو جنگ بندی کے ان وسیع تر انتظامات میں شامل کرنا جو ایران کے ساتھ مذاکرات سے منسلک ہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق امریکی رجحان اس وقت جنگ بندی کی توثیق کرنے پر مرکوز ہے جس کے ساتھ ساتھ کثیر الجہتی مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔اسرائیلی نشریاتی ادارے’کے اے این‘ نے ذرائع کے حوالے سے گذشتہ روز بتایا تھا کہ اسرائیل نے امریکی دباو¿ کے نتیجے میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ان مذاکرات میں جنگ بندی کے امور اور حزب اللہ سے وابستہ مسلح تشکیلات کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی۔ جبکہ اسرائیل کا موقف ہے کہ اگر حزب اللہ نے اپنے حملے نہ روکے تو وہ اس کے ٹھکانوں پر ضربات لگانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ روز جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ جتنا جلد ممکن ہو سکے براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ اعلان لبنان میں ایک خونی دن کے بعد سامنے آیا جہاں اسرائیلی فضائی حملوں میں چند گھنٹوں کے دوران 300 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande