لبنان میں غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا۔عالمی غذائی پروگرام کاانتباہ
بیروت،10اپریل(ہ س)۔جیسا کہ ایران جنگ سے لبنان کے اندر سامان کی رسد میں خلل پیدا ہوا ہے تو اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعہ کو کہا ہے کہ ملک کو غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا ہے۔واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے وعد
لبنان میں غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا۔عالمی غذائی پروگرام کاانتباہ


بیروت،10اپریل(ہ س)۔جیسا کہ ایران جنگ سے لبنان کے اندر سامان کی رسد میں خلل پیدا ہوا ہے تو اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعہ کو کہا ہے کہ ملک کو غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا ہے۔واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور اسرائیل نے لبنان پر حملے کیے جن کے بارے میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس اعتبار سے جمعہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی ایک نازک جنگ بندی میں مزید تناو¿ کے آثار ظاہر ہوئے جبکہ اگلے ہی دن فریقین کے پاکستان میں مذاکرات متوقع ہیں۔عالمی غذائی پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر ایلیسن اومان نے بیروت سے بذریعہ ویڈیو لنک بات کرتے ہوئے کہا، ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ صرف نقلِ مکانی کا بحران نہیں بلکہ یہ تیزی سے غذائی تحفظ کا بحران بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے گھر خاندانوں میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خوراک تیزی سے ناقابلِ استطاعت ہوتی جا رہی ہے۔

لبنان کو دو سطحی بحران کا سامنا ہے جس میں بعض بازار مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں بالخصوص جنوب میں 80 فیصد سے زیادہ بازار اب کام نہیں کر رہے جبکہ بیروت میں انہیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے، اومان نے کہا۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی تاجر اطلاع دے رہے ہیں کہ ضروری خوراک کا باقی ماندہ ذخیرہ اب ایک ہفتے سے بھی کم کا رہ گیا ہے۔دو مارچ سے اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید بمباری کا سامنا کرنے والے جنوب میں مشکل رسائی والے علاقوں تک غذائی امداد پہنچانے کی صلاحیت دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔اس ہفتے جنوب میں داخل ہونے والے ڈبلیو ایف پی کے ایک قافلے نے 15 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لیا جبکہ اسے عموماً چند گھنٹے لگنے چاہئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande