
بیجنگ،10اپریل(ہ س)۔چین نے ایران کے بحران میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ ایک بین الاقوامی ثالث کے طور پر اپنا کردار مستحکم کر سکے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ گہرے رابطوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مشترکہ اقدام بھی پیش کیا گیا ہے، جس نے تہران کو ایک سفارتی راستہ فراہم کر دیا ہے۔
چینی حکام کے مطابق وانگ ای نے ثالثی کی کوششوں میں بیجنگ کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بین الاقوامی حکام کے ساتھ 26 ٹیلی فون کالز کیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ چین نے پاکستان کے تعاون سے 31 مارچ سنہ 2026ءکو جو منصوبہ تجویز کیا تھا، اس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے حکام کا ماننا ہے کہ چینی اقدام نے ایران کو سفارتی محاذ پر نقل و حرکت کی جگہ فراہم کی ہے، کیونکہ بیجنگ ایک سکیورٹی پارٹنر اور تیل کے بڑے خریدار کے طور پر تہران کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے۔ یہ رپورٹ ’وول سٹریٹ جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے۔ چین کی یہ سرگرمیاں صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ بیجنگ کثیر الجہتی سفارتی مہم میں مصروف ہے تاکہ امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر اہداف کی تکمیل میں اپنے کردار کو نمایاں کر سکے۔ یہ سب کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان مئی کے وسط میں ہونے والی متوقع ملاقات سے قبل کیا جا رہا ہے۔یہ سفارتی تحریک ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بیجنگ متوقع سربراہی اجلاس سے قبل اپنی مذاکراتی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ اسے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدی پابندیوں کے حوالے سے فوائد حاصل ہوں گے، اس کے علاوہ وہ واشنگٹن کو تائیوان جیسے حساس معاملات پر زیادہ متوازن موقف اختیار کرنے پر راغب کرنا چاہتا ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اس کردار کے ذریعے خود کو ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو براہ راست خطرات مول لیے بغیر بین الاقوامی بحرانوں کے استحکام میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔ اسے ایک ایسی محتاط پالیسی قرار دیا جا رہا ہے جو کم سے کم قیمت پر سیاسی فوائد فراہم کرتی ہے۔ان اقدامات کا تعلق معاشی حساب کتاب سے بھی ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ صورتحال برآمدات پر منحصر چینی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اسی دوران بیجنگ تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک باریک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں ایک اہم شراکت دار ہے، جبکہ وہ ایسے اقدامات سے بھی بچنا چاہتا ہے جو اسے امریکہ کی جانب سے مزید دباو¿ یا پابندیوں کی زد میں لے آئیں۔
اس سفارتی سرگرمی کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کا کردار اب بھی محدود اثر رکھتا ہے، کیونکہ بیجنگ ایسے ثالث کے طور پر رہنے کو ترجیح دیتا ہے جو عمل درآمد یا سکیورٹی ضمانتوں کا بوجھ اٹھائے بغیر سیاسی فوائد حاصل کرے، جو ایسے بحرانوں میں اس کے اصل اثر و رسوخ کی حدود کو ظاہر کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan