
کاٹھمنڈو، 10 اپریل (ہ س)۔ جوائنٹ اسٹوڈنٹ یونین نے نیپال میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ طلبہ تنظیموں کو تحلیل کرنے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک تحریک شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کو کاٹھمنڈو میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران جوائنٹ اسٹوڈنٹ یونین کی جانب سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق 12 اپریل کو سول سوسائٹی کے رہنماو¿ں کے ساتھ مکالمہ منعقد کیا جائے گا جس کے بعد 13 اپریل سے 17 اپریل تک ملک بھر کے تمام اضلاع کے کالج کیمپس میں مباحثے اور بات چیت کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ 18 اپریل کو سابق طلباءرہنماو¿ں اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مکالمہ کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ اسی طرح 20 سے 22 اپریل تک طلباءتنظیمیں پورے کیمپس میں عوامی آگاہی مہم چلائیں گی، جس میں بینر ڈسپلے، کتابچے کی تقسیم، اور دستخطی مہم شامل ہوں گی۔
طلباءتنظیموں نے 24 اپریل کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو میمورنڈم جمع کرنے اور 25 اپریل کو اہم ضلعی عہدیداروں کے ذریعے وزیر اعظم کو میمورنڈم پیش کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ 28 اپریل کو ملک گیر احتجاج طے کیا گیا ہے، جس کے دوران طلباءنوٹ بک اور قلم اٹھا کر مظاہرہ کریں گے۔ کھٹمنڈو میں بلواتار کے لیے بھی ایک مظاہرے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جوائنٹ اسٹوڈنٹ یونین نے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے، جس میں اعلیٰ سطحی کمیشن کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ پر فوری عمل درآمد شامل ہے، تاکہ جامعات کے اندر ٹیکنالوجی کے موثر ضابطے اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے- ساتھ ہی امتحانی نتائج شائع کرنے اور تین ماہ کی مدت کے اندر دوبارہ امتحانات کے انعقاد کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
مزید یہ کہ تنظیموں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات اور عام لوگوں کو ریلیف پیکج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے 8 اور 9 ستمبر 2025 کو پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
نیپال اسٹوڈنٹ یونین (نیپالی کانگریس سے وابستہ) کے صدر دوجان شیرپا نے خبردار کیا کہ حکومت کی طرف سے اختیار کی گئی کسی بھی آمرانہ پالیسی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسی طرح،انیراسوو (یو ایم ایل پارٹی سے وابستہ طلبہ تنظیم) کے صدر دیپک دھامی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پابندیوں کے ذریعے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے وارننگ جاری کی کہ اگر حکومت نے یکطرفہ طور پر مخصوص سیاسی نظریات سے منسلک تنظیموں کو تحلیل کرنے کی طرف پیش قدمی کی تو اسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی