
واشنگٹن،07مارچ(ہ س)۔با خبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی ملاقاتوں کے دوران ایران کے اندر امریکی زمینی افواج کی تعیناتی کے امکان میں سنجیدہ دل چسپی ظاہر کی ہے۔ این بی سی نیوز کے مطابق موجودہ اور سابق امریکی حکام اور ان گفتگو سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین اور وائٹ ہاو¿س سے باہر بعض ریپبلکن عہدے داروں کے ساتھ اس خیال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔یہ بات چیت ایران میں جنگ کے بعد کے مرحلے کے حوالے سے ان کے تصور کا حصہ ہے، جس میں ایرانی یورینیم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تیل کی پیداوار کے شعبے میں امریکہ اور نئی ایرانی انتظامیہ کے درمیان تعاون قائم کرنا شامل ہے۔ یہ تعاون اسی طرز پر ہو گا جیسا واشنگٹن اور وینزویلا کے درمیان قائم ہوا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ ان مباحثوں کا مقصد ایران پر بڑے پیمانے پر زمینی حملہ کرنا نہیں، بلکہ مخصوص تزویراتی مقاصد کے لیے ایک مختصر امریکی فورس کی تعیناتی پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک زمینی افواج بھیجنے کے بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے رپورٹ کی درستی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی ایسے نامعلوم ذرائع کے مفروضوں پر مبنی ہے جن کا قومی سلامتی کی ٹیم سے تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ تمام راستے کھلے رکھنے کے قائل ہیں اور جو شخص یہ تاثر دے رہا ہے کہ صدر کسی خاص طریقے کو ترجیح دے رہے ہیں، وہ حقیقت میں فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ نہیں ہے۔ٹرمپ نے علانیہ طور پر ایران میں زمینی افواج کی تعیناتی کے امکان کو مسترد نہیں کیا، اگرچہ اب تک فوجی کارروائیاں صرف فضائی مہم تک محدود ہیں۔ نجی بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ صدر اس آپشن پر غور کرنے کے لیے اپنی عوامی تقاریر کے مقابلے میں زیادہ تیار ہو سکتے ہیں، جبکہ مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی تعیناتی سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایک مثالی نمونہ پیش کیا جو جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وہاں کی صورتحال سے مشابہ ہے۔ واشنگٹن نے وہاں ڈیلسی روڈریگز کی صدارت کی اس شرط پر حمایت کی کہ وہ امریکی مفادات کے مطابق پالیسیاں نافذ کریں گی، جس میں تیل کی پیداوار سے امریکہ کو فائدہ پہنچانا شامل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران میں امریکی افواج مخصوص حالات، جیسے فضائی بمباری سے ناقابلِ تباہ اہداف کے خلاف کارروائی یا یورینیم کے ذخائر کی نگرانی کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan