
واشنگٹن،07مارچ(ہ س)۔امریکی اخبار ” واشنگٹن پوسٹ “ نے انٹیلی جنس معلومات سے واقف 3 حکام کے حوالے سے بتایا کہ روس ایران کو ایسی معلومات فراہم کر رہا ہے جن میں مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کے مقامات شامل ہیں۔ اخبار نے مزید کہا کہ ایران کے لیے روسی مدد مکمل طور پر واضح نہیں ہے لیکن گزشتہ ہفتے تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایرانی فوج کی امریکی افواج کے مقامات کا تعین کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔وائٹ ہاوس کی خاتون ترجمان نے ایران کے لیے مبینہ روسی حمایت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان انا کیلی نے رائٹرز کے سوالات کے جواب میں ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت مکمل طور پر کچلی جا رہی ہے۔ ان کا بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے انتقام دن بہ دن کم ہو رہا ہے۔ ان کا بحری بیڑہ ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کی پیداواری صلاحیت تباہ ہو رہی ہے اور ان کے ایجنٹ بمشکل مزاحمت کر پا رہے ہیں۔ایران میں جنگ کے ساتویں دن 6 مارچ کو کریملین نے جمعہ کو کہا کہ روس ایرانی قیادت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ماسکو تہران کی مدد کر رہا ہے تو کرملین نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ کرملین کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اعلان کیا کہ روس ایرانی قیادت کے ساتھ مکالمہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور اسے جاری رکھنے کا خواہاں بھی ہے۔ پیسکوف نے ایک بریفنگ کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات ، جن میں کہا گیا تھا کہ روس اور چین سیاسی یا دیگر طریقوں سے ملک کی مدد کر رہے ہیں، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایرانی فریق کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم ایرانی قیادت کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہم یقیناً یہ مکالمہ جاری رکھیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون موجود ہے یا نہیں۔واضح رہے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ وائٹ ہاوس نے وضاحت کی کہ یہ حملہ ان میزائل اور جوہری خطرات کے تناظر میں کیا گیا جو ایران کی جانب سے درپیش تھے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی اہم رہنما جاں بحق ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف عبدالرحیم موسوی شامل ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ جوابی کارروائیوں میں اسرائیلی اہداف کی طرف میزائل اور ڈرون داغنے کے علاوہ بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اہداف پر بھی بمباری کی گئی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan