علاقائی بحرانوں کے خاتمے اور استحکام کیلئے سعودی عرب کی کوششیں تیز
ریاض،یکم مئی (ہ س)۔مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر قابو پانے کی کوشش میں سعودی عرب نے گذشتہ دنوں اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ایسے سکیورٹی اقدامات کی بنیاد رکھی جا سکے جو استحکام کا باعث بنیں اور علاقائی تناو کے اثرات کو کم کریں۔ اس سرگرمی کے اش
علاقائی بحرانوں کے خاتمے اور استحکام کیلئے سعودی عرب کی کوششیں تیز


ریاض،یکم مئی (ہ س)۔مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر قابو پانے کی کوشش میں سعودی عرب نے گذشتہ دنوں اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ایسے سکیورٹی اقدامات کی بنیاد رکھی جا سکے جو استحکام کا باعث بنیں اور علاقائی تناو کے اثرات کو کم کریں۔ اس سرگرمی کے اشارے مملکت کی قیادت میں خلیجی ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ بحران کے کسی بھی حل میں خلیجی ممالک کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی ایرانی رابطے بھی نمایاں ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں ثالثوں کے ساتھ مشاورت کا دائرہ بڑھایا گیا ہے تاکہ تنازع کے فریقین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی جا سکے۔ مزید برآں سعودی عرب نے بیروت میں استحکام کی حمایت اور لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں کے باوجود ریاض نے اپنی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے جسے مبصرین ایک متوازن پالیسی قرار دیتے ہیں۔ سعودی تحرک کا مقصد افراتفری کے مقابلے میں استحکام کے دائرے کو وسعت دینا ہے تاکہ ایسے تعمیری حل تلاش کیے جائیں جو علاقائی خطرات کو روک سکیں اور مشترکہ چیلنجز کے خلاف نظریات کو متحد کیا جا سکے۔ محققین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے جیو پولیٹیکل اور سفارتی اثر و رسوخ کی بدولت ایسے سکیورٹی انتظامات کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جو خطے کو کسی بھی بڑے تصادم کی بھاری قیمت سے بچا سکیں۔سعودی سیاسی محقق خالد الغنامی کا ماننا ہے کہ موجودہ بحرانوں کے حوالے سے سعودی عرب کا اندازِ فکر خطے کو کشیدگی سے نکال کر توازن کی طرف لے جانے کے وسیع وڑن کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی کوششیں اس گہرے ادراک کا نتیجہ ہیں کہ خطے کا استحکام اب محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تحفظ اور معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔

اپریل کے آغاز کے ساتھ ہی جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہوئی تو عالمی رہنماو¿ں کی جدہ آمد کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک ماہ کے دوران آٹھ سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کیں جن میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سوڈان کی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان، شام کے احمد الشرع، سوئس کنفیڈریشن کے صدر گی پارمیلان اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی شامل تھے۔اسی مدت کے دوران ولی عہد کو متعدد بین الاقوامی فون کالز بھی موصول ہوئیں جن میں چین کے صدر شی جن پنگ، جاپان کی وزیراعظم سانائی تاکائچی، فرانسیسی صدر عمانویل میکروں، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور لبنان کے جوزف عون کے ساتھ بات چیت شامل تھی۔

کنگ سعود یونیورسٹی میں پولیٹیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر سلمان العنزی کا کہنا ہے کہ ریاض کے ساتھ رابطوں کی شدت اس عالمی یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششیں موجودہ جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں سب سے زیادہ موثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کا کردار توانائی کی سکیورٹی اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کلیدی ہے۔سلمان العنزی نے مزید کہا کہ ولی عہد کی قیادت میں سعودی تحرک مملکت کی اس حیثیت کو واضح کرتا ہے کہ وہ ایک علاقائی سکیورٹی مرکز ہے جو خطے کے کمزور حصوں سے خطرات کو خلیجی ممالک تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔اسی تناظر میں سعودی عرب علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔ سعودی محقق عبداللہ بن بجاد العتیبی کا کہنا ہے کہ ولی عہد کے سیاسی اقدامات وقت سے پہلے کی بصیرت پر مبنی ہوتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande