
واشنگٹن،07مارچ(ہ س)۔
امریکی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق چین ایران کو مالی امداد، سپیئر پارٹس اور میزائل اجزائ کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ معلومات امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف تین افراد نے سی این این کو بتائیں۔ بیجنگ ایرانی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اب تک مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع سے باہر رہا ہے لیکن وہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تہران پر دباو¿ ڈال رہا ہے کہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنایا جائے۔ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ چین تہران کی حمایت میں احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ چین اپنی حمایت میں زیادہ محتاط ہے، وہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی اس سپلائی کو خطرہ ہے جس پر وہ انحصار کرتا ہے۔ اسی دوران انٹیلی جنس رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ روس ایران کو خطے میں امریکی افواج، بحری جہازوں اور طیاروں کے مقامات اور نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے۔ یہ ماسکو کی جانب سے جاری جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کا پہلا اشارہ ہے۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف افراد کے مطابق ماسکو نے تہران کو جو معلومات فراہم کی ہیں ان کا ایک بڑا حصہ روس کے جدید فوجی سیٹلائٹ سسٹم سے لی گئی تصاویر پر مبنی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ روس کو اس امداد کے بدلے کیا مل رہا ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق ہو سکی ہے کہ آیا ایران کا کوئی خاص حملہ روسی معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے یا نہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں کئی ایرانی ڈرونز نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں امریکی افواج موجود تھیں۔ انہی رپورٹس کے مطابق اتوار کو ایک ایرانی ڈرون نے کویت میں امریکی افواج کی ایک عارضی تنصیب کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا کہ روس اور چین فی الوقت ایران کے ساتھ جنگ میں کوئی بڑا عنصر نہیں ہیں۔ رپورٹس میں ماسکو اور تہران کے درمیان کئی سالوں سے جاری فوجی تعاون کی تصدیق کی گئی، خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرونز کے شعبے میں فوجی تعاون کا بتایا گیا ہے۔ایران نے روس کو یوکرین کی جنگ میں استعمال کے لیے شاہد ڈرونز اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں اور روس کے اندر ایرانی ڈیزائن کے ڈرونز بنانے کے لیے ایک بڑی فیکٹری کے قیام میں مدد کی ہے۔ اس کے بدلے میں تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو مضبوط بنانے کے لیے روس سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق امریکہ اس وقت ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ان کارروائیوں میں 50 ہزار سے زیادہ فوجی، 200 سے زیادہ لڑاکا طیارے اور دو طیارہ بردار بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ پینٹاگون کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس آپریشن کا فوجی ہدف ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔ ان میزائلوں کے بارے میں امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایران انہیں اپنے جوہری پروگرام کے تحفظ کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan