امریکہ نے ایران سے ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی گارنٹی مانگی، عوض میں امن لوٹانے کا وعدہ کیا
واشنگٹن، یکم مئی (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھی کشیدگی کے درمیان جمعرات کو کہا کہ اگر ایران کو امن چاہیے تو اسے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی گارنٹی دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ آج ایران چھوڑ دے،
صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر انٹرنیٹ میڈیا


واشنگٹن، یکم مئی (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھی کشیدگی کے درمیان جمعرات کو کہا کہ اگر ایران کو امن چاہیے تو اسے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی گارنٹی دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ آج ایران چھوڑ دے، تب بھی اسے پھر سے کھڑا ہونے میں 20 سال کا وقت لگ جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے پھر سے دعویٰ کیا کہ ایران میں جنگ امریکہ پہلے ہی جیت چکا ہے۔ مگر یہ جیت بہت چھوٹی ہے۔ امریکہ کو اور بڑی جیت چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ اس کی قیادت بھی تباہ ہو چکی ہے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا، ’’ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اگر ہم ابھی وہاں سے ہٹ جائیں تو انہیں پھر سے سب کچھ کھڑا کرنے میں 20 سال لگ جائیں گے۔ اس میں شک ہے کہ وہ ایسا کر پائیں گے۔ امریکہ ابھی اور بہت کچھ کرنا چاہتا ہے‘‘۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ایران کو یہ گارنٹی دینی ہوگی کہ اس کے پاس کبھی بھی کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا‘‘۔ ٹرمپ نے پھر سختی سے کہا کہ ایران سمجھوتہ کرنے کے لیے فوری طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کو خارج کر دیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت رک گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میرے اور کچھ دیگر لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ بات چیت کس موڑ پر ہے‘‘۔ ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ امریکہ کو ہر حال میں ایران کا افزودہ یورینیم ذخیرہ چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے ساتھ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر جائیں گی۔ ادھر، ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی کرنسی اب تک کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان تناو بے حد نازک موڑ پر ہے۔ جنگ کے خدشے کے درمیان امن کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران نے حال ہی میں امریکہ کے سامنے مشروط تجویز پیش کی ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایٹمی مذاکرات کو فی الحال ٹالنے کی بات کہی گئی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف شروع کیے گئے مربوط فوجی آپریشن کا اثر پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تجویز پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ وہ ایٹمی افزودگی کے معاملے کو نظر انداز کیے جانے سے ناخوش ہیں۔ اسٹریٹجک طور پر اہم اس آبی گزرگاہ کو لے کر صورتحال کشیدہ ہے۔ ایران نے اسے تجارت کے لیے بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وہ مبینہ طور پر سرنگ بچھا رہا ہے۔

ہندوستان کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ ایران نے ہندوستانی جہازوں کے وہاں سے گزرنے پر روک نہیں لگانے کا یقین دلایا ہے۔ اس سب کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن اس تنازعہ میں امن پسند کی حیثیت میں نظر آ رہے ہیں۔ ایران روس کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف اسٹریٹجک چکر ویو رچنے کی کوشش بھی کر چکا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کو لے کر امریکہ کے اندر بھی رائے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان فوجی کارروائی کے حق میں ہیں تو نائب صدر جے ڈی وینس اور کئی ڈیموکریٹس وسائل کی بربادی اور ممکنہ نتائج کو لے کر فکر مند ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ اس تنازعہ میں اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ادھر، ایران فوجی تیاری میں مصروف ہے۔ تہران میں حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے عرش ڈرون کے جدید ایڈیشن کا مظاہرہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande