اسرائیل نے اطالوی جہاز روکا، اٹلی نے ناراضگی ظاہر کی، شہریوں کی رہائی کا مطالبہ
روم/تل ابیب، 30 اپریل ( ہ س ) ۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کی جانب سے ایک اطالوی جہاز کو روکنے پر اٹلی نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اٹلی کی حکومت نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا
اسرائیل نے اطالوی جہاز روکا، اٹلی نے ناراضگی ظاہر کی، شہریوں کی رہائی کا مطالبہ


روم/تل ابیب، 30 اپریل ( ہ س ) ۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کی جانب سے ایک اطالوی جہاز کو روکنے پر اٹلی نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اٹلی کی حکومت نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق “گلوبل سمود فلوٹیلا” سے منسلک جہازوں کو اُس وقت روکا گیا جب وہ بین الاقوامی سمندری حدود میں تھے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں اس طرح کی کارروائی مناسب نہیں اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اٹلی کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس واقعے میں کئی اطالوی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جس پر حکومت کو شدید تشویش ہے۔ اٹلی نے زور دیا ہے کہ تمام افراد کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سمندری راستوں پر نقل و حرکت بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے، اس لیے کسی بھی ملک کو یکطرفہ کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔ اٹلی نے اس معاملے میں شفافیت اور مکمل معلومات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل نے اس اقدام کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو شبہ تھا کہ یہ جہاز حساس علاقوں کی طرف جا سکتا ہے اور وہاں امداد یا سامان پہنچا سکتا ہے، اسی لیے اسے روکا گیا۔

یہ واقعہ پہلے سے کشیدہ علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ اس تنازعہ کا جلد حل نکالا جا سکے اور متاثرہ افراد کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande