
ریاض،07مارچ(ہ س)۔سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو غلط اندازوں سے دور رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تہران حکمت اور دانش مندی کی آواز کو غالب رکھے گا اور ان ایرانی حملوں کو روکے گا جو خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے مفاد میں نہیں ہیں۔شہزادہ خالد بن سلمان کا یہ بیان خطے کے ممالک میں سکیورٹی کشیدگی کے اس ماحول کے دوران سامنے آئے ہیں جو خلیجی دارالحکومتوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف ایرانی رد عمل کا کا حصہ ہیں۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران سعودی دفاعی نظام نے ان ایرانی حملوں کا مقابلہ کیا جن میں درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ سعودی دفاعی ادارے چوکس تھے جنہوں نے کسی نقصان کے بغیر ان حملوں کو فوری طور پر ناکام بنا دیا۔سعودی عرب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ خطے کے ممالک کے خلاف ایران کے اس نازیبا رویے کی تکرار ایک ایسے جارحانہ طرزِ عمل کو ظاہر کرتی ہے جس کا کسی بھی صورت میں جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، اور یہ بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور اچھی ہمسائیگی بنیادی اصولوں کے صریحاً منافی ہے اور خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔مزید برآں ایران میں بڑھتی ہوئی جنگ آج دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ دو امریکی حکام نے جمعہ کے روز خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ ڈرونز کے خلاف کام کرنے والا ایک امریکی نظام، جس نے یوکرین میں روسی ڈرونز کے خلاف اپنی تاثیر ثابت کی ہے، جلد ہی مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا تاکہ ایرانی ڈرونز کے خلاف امریکی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔اسی تناظر میں ایک امریکی دفاعی عہدیدار (ان دو حکام میں سے ایک جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی) کے مطابق، جہاں امریکہ ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے گرانے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹم استعمال کر رہا ہے، وہیں مشرقِ وسطیٰ میں فی الحال ڈرونز کے خلاف محدود تاثیر رکھنے والے دفاعی نظام موجود ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan