
واشنگٹن،06مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات میں معافی دے دی جائے اور عدالتی کارروائی کو روک دیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف ایک بار پھر جنگ میں امریکی اتحادی اور شراکت دار کے طور پر ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے جنگی ساتھی نیتن یاہو کے بارے میں کہا اس وقت ان کے دماغ میں ایران کے خلاف جنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نیتن یاہو کو عام طور پر لاڈ سے ان کے عرف بی بی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا صدر ہرزوگ کو بی بی کو لازمآ اب کرپشن کے مقدمات سے معاف کردینا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا میں نہیں چاہتا کہ بی بی کے لیے کوئی بھی چیز پریشانی کا باعث بننے والی ہو سوائے اس کے بی بی کی ساری توجہ ایران کے خلاف جنگ پر مرکوز ہو۔انہوں نے کہا یہ بات صدر ہرزووگ کے شایان شان نہیں کہ انہوں نے ابھی تک بی بی کو مقدمات سے معافی نہیں دی ہے ، حالانکہ انہوں نے میرے ساتھ پانچ بار وعدہ کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف مقدمات ختم کر دیں گے۔ لیکن ابھی کچھ ایسا نہیں کیا گیا۔اسرائیلی صدر ہرزووگ کے دفتر کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے بارے میں کوئی تازہ تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ خیال رہے نیتن یاہو کو رشوت لینے کے الگ الگ الزامات کے تحت مقدمات کا عدالتوں میں سامنا ہے۔وہ اب تک چھ بار اسرائیلی وزارت عظمیٰ پر فائز ہو چکے ہیں۔ وہ ساتویں بار کے لیے پھر انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کیے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے قانون کے مطابق صدر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو معافی دے سکتا ہے۔ اگرچہ آج تک کسی بھی شخص کو معافی نہیں دی گئی ہے۔ مگر یہ معاملہ سست روی کا شکار ہوسکتا ہے۔ نیز ایسی مثال بھی کوئی موجود نہیں ہے کہ ٹرائل مکمل ہوئے بغیر اور سزا کا اعلان ہونے سے پہلے کسی کو اسرائیلی صدر نے معافی دے دی ہو۔جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی صدر سے اس سے پہلے بھی یہ مطالبہ کئی بار کر چکے ہیں۔ تاہم اب ٹرمپ اور ان کے ساتھ نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست ساتھی ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan