ایران کی جنگ ساتویں روز میں داخل، لڑائی کا دائرہ کار وسیع
واشنگٹن،06مارچ(ہ س)۔ایران کے خلاف جاری جنگ ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے دائرہ کار میں وسعت کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کی 14ویں لہر مکمل کر لی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے
ایران کی جنگ ساتویں روز میں داخل، لڑائی کا دائرہ کار وسیع


واشنگٹن،06مارچ(ہ س)۔ایران کے خلاف جاری جنگ ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے دائرہ کار میں وسعت کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کی 14ویں لہر مکمل کر لی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے آج جمعے کے روز نئے حملوں کے آغاز کی تصدیق کی ہے، جبکہ دارالحکومت تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب کی جانب میزائل اور ڈرونز داغنے کا اعلان کیا ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن سمیت متعدد ایرانی میڈیا ذرائع نے جمعہ کی صبح سویرے دارالحکومت کے مختلف حصوں، بالخصوص مشرقی اور مغربی علاقوں میں دھماکوں کے ایک سلسلے کی اطلاع دی ہے۔ ادھر پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کو تل ابیب کی طرف میزائلوں کی بوچھاڑ کا اعلان کیا، جہاں جمعرات کی شام دھماکے سنے گئے تھے۔ تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے حملوں میں شدت اور وسعت لائی جائے گی، ساتھ ہی انہوں نے عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانے کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے رمات ڈیوڈ ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔اس دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران طویل المدتی جنگ کے لیے تیار ہے۔ ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان نے کارروائیوں کی ہر لہر میں تکلیف دہ ضربوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جدید اور اختراعی ہتھیار ابھی تک بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کیے گئے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کی سربراہی میں عبوری قیادت کی کونسل کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا۔ کونسل نے نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کے لیے ماہرین کی کونسل (مجلسِ خبرگان) کا اجلاس بلانے کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ مزید برآں، کونسل کے ارکان نے فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بعض فیصلے بھی کیے ہیں جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ واضح رہے کہ مجمع تشخیص مصلحت نظام نے اس عبوری کونسل کو وسیع اختیارات تفویض کیے ہیں، جن میں فوجی کمانڈروں کی برطرفی و تقرری، اعلانِ جنگ اور ریاست کے امور چلانا شامل ہے۔مشرق وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں موجود ایرانی کرد فورسز کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دی ہے، جبکہ اسی وقت آذربائیجان نے بھی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے کے بعد جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے۔سات روز سے جاری اس جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل، خلیجی ممالک، قبرص، ترکیہ اور آذربائیجان پر حملے کیے ہیں۔ یہ جنگ بحرِ ہند میں سری لنکا کے ساحل تک پھیل گئی ہے جہاں ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو غرق کر دیا تھا۔ایرانی کرد فورسز کے ایران میں داخل ہونے کے امکان پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرے خیال میں یہ بہت اچھی بات ہے کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں، اور میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز عراق کے علاقے کردستان میں ایرانی اپوزیشن کے ایک کیمپ پر دو ایرانی ڈرون حملے بھی کیے گئے۔با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی کرد ملیشیاو¿ں نے گذشتہ چند دنوں میں امریکہ سے اس بارے میں مشاورت کی ہے کہ آیا انہیں ملک کے مغربی حصے میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنا چاہیے اور یہ کیسے ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی کرد گروہوں کا ایک اتحاد عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان میں ایران کی سرحد پر موجود ہے جہاں وہ اس طرح کے حملے کی تیاری کے لیے مشقیں کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس سے ایرانی فوج کمزور ہوگی، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بموں اور میزائلوں سے ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایران میں اپنے فوجی اہداف کو وسعت نہیں دے گا، جو کہ ملک کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے برعکس موقف ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande