
امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے آزادی اسپورٹس کمپلیکس پر حملہ، 12 ہزار نشستوں کی گنجائش والا انڈور ایرینا مکمل طور پر منہدم
تہران/واشنگٹن، 06 مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے چھٹے دن ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع دنیا کے بے حد خوبصورت اور باوقار فٹ بال میدان ’’آزادی اسپورٹس کمپلیکس‘‘ کو نشانہ بنایا۔ اس بمباری میں اس کی 12 ہزار نشستوں کی گنجائش والا انڈور ایرینا مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ایران انٹرنیشنل اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکومت نے آزادی اسپورٹس کمپلیکس پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ ایران نے تسلیم کیا ہے کہ اس مقام پر تعمیر شدہ 12,000 نشستوں والے انڈور اسٹیڈیم کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
وزیر کھیل احمد دونیا مالی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حملے کو بین الاقوامی قانون اور اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے دنیا بھر سے اس کی جوابدہی طے کرنے کی اپیل کی۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تہران کا آزادی اسپورٹس کمپلیکس ایران کا سب سے بڑا اور معتبر کھیلوں کا مرکز ہے۔ اس فٹ بال اسٹیڈیم کی گنجائش تقریباً 78,000 سے 1,00,000 کے درمیان ہے۔
انڈور ایرینا کا استعمال والی بال، کشتی، باسکٹ بال اور فٹسل کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ کمپلیکس میں دیگر سہولیات بھی موجود ہیں، جن میں ایک مصنوعی جھیل (روئنگ اور کایاکنگ کے لیے)، تیراکی کا مرکز، ویلوڈروم (سائیکلنگ) اور تربیتی میدان شامل ہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ محمد رضا شاہ کے دور حکومت میں اس کی تعمیر 1974 کے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کے لیے کی گئی تھی۔ اس نے 1976 اے ایف سی ایشین کپ جیسے کئی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کی ہے۔ قیام کے وقت اصل میں اسے ’’آریامہر اسٹیڈیم‘‘ کہا جاتا تھا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اس کا نام بدل کر آزادی اسپورٹس کمپلیکس کر دیا گیا تھا۔
ایرانی حکومت نے اعتراف کیا کہ 5 مارچ کے فضائی حملے میں انڈور ایرینا کے ساتھ ساتھ سائیکلنگ فیڈریشن کی نئی عمارت اور ڈارمیٹری (ہاسٹل) کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے لوگوں کو اس علاقے میں جانے سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ کمپلیکس تہران کے مغرب میں اکبتن ضلع کے قریب واقع ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ابھی مزید بڑی کومبیٹ پاور (فوجی طاقت) آنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی افواج موجودہ صلاحیت سے کئی گنا تیز حملہ کریں گی۔ واشنگٹن فوجی مہم بند نہیں کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن