مسجد حکیم جی، علی گڑھ میں تکمیلِ قرآن کی روح پرور تقریب
علی گڑھ, 05 مارچ (ہ س)۔ علی گڑھ کے محلہ افغانان مسجد حکیم جی میں گزشتہ شب نمازِ تراویح کے موقع پر تکمیلِ قرآنِ مجید کی ایک نہایت روح پرور اور بابرکت تقریب منعقد ہوئی۔ اس تاریخی مسجد میں منعقد ہونے والی اس نورانی محفل میں اہلِ علاقہ اور عاشقانِ
خطاب کرتے ہوئے حافظ ڈاودرشیدی


علی گڑھ, 05 مارچ (ہ س)۔

علی گڑھ کے محلہ افغانان مسجد حکیم جی میں گزشتہ شب نمازِ تراویح کے موقع پر تکمیلِ قرآنِ مجید کی ایک نہایت روح پرور اور بابرکت تقریب منعقد ہوئی۔ اس تاریخی مسجد میں منعقد ہونے والی اس نورانی محفل میں اہلِ علاقہ اور عاشقانِ قرآن کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس سال قرآنِ کریم سنانے کی سعادت ممتاز نوجوان عالمِ دین حافظ داؤد رشیدی کو حاصل ہوئی، جنہوں نے ماہِ رمضان میں انتہائی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ کلامِ پاک سنایا۔ ان کی پرسوز آواز اور عمدہ قرأت نے سامعین کے دلوں کو گرما دیا اور تکمیل قرآن کی شب مسجد کا ماحول نور و سرور سے معطر ہو گیا۔

تقریب میں معزز مہمانانِ کرام نے بھی شرکت کی۔ معروف سماجی کارکن علی گڑھ مسلم یونیرسٹی کے استاد ڈاکٹر سید کلیم افروغ زیدی بطور مہمانِ خصوصی موجود رہے۔ اعزازی مہمانوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر سلمان امتیاز اپنے رفقاء نوید عالم، عظیم، سلمان، ریاض پاشا اور سید عفان کے ہمراہ شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں محلہ کے ذمہ داران اور معززینِ شہر کی بڑی تعداد نے اس بابرکت محفل میں حاضری دی۔تکمیلِ قرآن کے بعد خطاب کرتے ہوئے حافظ داؤد رشیدی نے دینی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم نے اپنی نسلوں کو قرآن اور دینی علوم سے وابستہ نہ کیا تو آنے والا وقت ہمارے لیے باعثِ تشویش ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ ہر خاندان کم از کم ایک بچے کو حافظِ قرآن بنانے کا عزم کرے تاکہ گھروں میں تلاوتِ قرآن کی برکتیں جاری رہیں۔تقریب کے اختتام پر حافظ صاحب نے رقت آمیز دعا کروائی جس میں ملکِ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں امن و سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ دعا کے دوران مسجد کا ماحول انتہائی جذباتی اور روحانی کیفیت میں ڈوبا رہا۔آخر میں علاقے کے لوگوں نے حافظ داؤد رشیدی کو مبارکباد پیش کی اور ان کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے حق میں دعائے خیر کی۔ یہ روحانی اجتماع اہلِ علاقہ کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande