
مالیگاؤں میں بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی، 132 کروڑ کے قرض پر کارپوریشن میں شدید اختلافمالیگاؤں، 5 مارچ (ہ س)۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی بجٹ جنرل باڈی میٹنگ کے دوران زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ 132 کروڑ روپے کے قرض کی تجویز پر بحث کے دوران اسلام پارٹی اور ایم آئی ایم کے رہنماؤں کے درمیان شدید تنازعہ پیدا ہو گیا جس سے اجلاس کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔میئر کی صدارت میں منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں میونسپل کمشنر رویندر جادھو نے بتایا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی موجود نہ ہونے کے باعث بجٹ براہِ راست جنرل باڈی کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس پر ایم آئی ایم کے رکن خالد پرویز نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب اسٹینڈنگ کمیٹی کے 16 ارکان منتخب ہو چکے ہیں تو بجٹ کو براہِ راست جنرل باڈی میں پیش کرنا قانونی طور پر درست ہے یا نہیں، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ انتظامیہ کی وضاحت کے بعد اجلاس کی کارروائی جاری رکھی گئی۔پیش کردہ بجٹ میں 599 کروڑ روپے کی آمدنی اور 512 کروڑ روپے کے سرکاری گرانٹ کا تخمینہ شامل ہے جبکہ 132 کروڑ روپے کا قرض لینے کی تجویز بھی رکھی گئی۔ اس پر مختلف پارٹیوں کے ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار کارپوریشن پر مزید قرض ڈالنا مناسب نہیں ہے۔بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے مستکین ڈگنیٹی نے پراپرٹی ٹیکس کی ناقص وصولی کا مسئلہ اٹھایا۔ اس کے جواب میں ایم آئی ایم کے گروپ لیڈر عبدالملک نے پراپرٹی ٹیکس کے علاوہ دیگر ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر اسلام پارٹی کے گروپ لیڈر خالد شیخ نے سخت مخالفت کی۔اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی تکرار بڑھتی گئی اور صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھ گئے، جس سے اجلاس میں ہنگامہ مچ گیا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اجلاس کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔ بعد ازاں دیگر ارکان کی مداخلت سے دونوں رہنماؤں کو پرسکون کیا گیا اور اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے