
بنگلہ دیشی شہریوں کی تلاش مہم پر تنازعہ، این سی پی نے حکومت کے اقدام پر اٹھائے سوالممبئی، 5 مارچ (ہ س)۔ ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں مبینہ بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کے لیے اسمبلی حلقہ وار کمیٹیاں قائم کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔ این سی پی (شرد چندر پوار) کے ریاستی ترجمان اور یوتھ ممبئی کے صدر ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ممبئی میں برسوں سے ہاتھ گاڑی چلانے والے، فٹ پاتھ فروش اور تعمیراتی مزدوروں سمیت مختلف شعبوں میں بیرونی شہری کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر حکومت کو اس مسئلے کا علم تھا تو اب تک اس پر مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور اب اچانک کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیوں لیا گیا۔ماتیلے کے مطابق ان کمیٹیوں میں بی جے پی کارکنوں کی شمولیت کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے شہریوں میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ کمیٹیاں غیر قانونی وصولی یا فٹ پاتھ فروشوں کو تحفظ دینے جیسے معاملات میں استعمال نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات پر جعلی پیدائش سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے بارے میں بھی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ماتیلے نے مطالبہ کیا کہ شریک نگراں وزیر منگل پربھات لوڈھا ان کمیٹیوں کی تشکیل، اختیارات اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح معلومات جاری کریں اور یہ بھی بتایا جائے کہ آیا ان میں سرکاری افسران شامل ہوں گے یا صرف سیاسی کارکن۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی جیسے بڑے شہر میں قانون و نظم برقرار رکھنے کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہے اور اس کے لیے سیاسی کمیٹیوں پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے