ڈوڈہ میں سائبر پولیس سرگرم، مالی فراڈ کے متاثرین کو بڑی راحت
جموں, 05 مارچ (ہ س)۔ ضلع ڈوڈہ میں سائبر پولیس اسٹیشن کے قیام کے بعد آن لائن دھوکہ دہی اور مالی فراڈ کے معاملات میں متاثرہ افراد کو نمایاں راحت حاصل ہوئی ہے۔ یہ خصوصی پولیس اسٹیشن سائبر جرائم کی روک تھام، شکایات کے اندراج اور ان کے بروقت ازالے ک
Ssp doda


جموں, 05 مارچ (ہ س)۔

ضلع ڈوڈہ میں سائبر پولیس اسٹیشن کے قیام کے بعد آن لائن دھوکہ دہی اور مالی فراڈ کے معاملات میں متاثرہ افراد کو نمایاں راحت حاصل ہوئی ہے۔ یہ خصوصی پولیس اسٹیشن سائبر جرائم کی روک تھام، شکایات کے اندراج اور ان کے بروقت ازالے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔سائبر پولیس اسٹیشن میں سائبر فراڈ، ڈیجیٹل اریسٹ، سوشل میڈیا سے متعلق شکایات کے ساتھ ساتھ گمشدہ یا چوری شدہ موبائل فونز کی بازیابی جیسے معاملات پر بھی کارروائی کی جاتی ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ڈوڈہ سندیپ مہتا نے بتایا کہ سائبر پولیس اسٹیشن کے قیام کے بعد اب تک سات سو سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ جن میں چار سو سے زائد معاملات کو حل کر لیا گیا ہے ۔ان میں زیادہ تر معاملات ایسے ہیں جن میں جعلساز مختلف حیلوں اور لالچ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آن لائن لین دین یا کسی بھی قسم کی مشکوک پیشکش کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں اور کسی لالچ یا دباؤ میں آکر رقم منتقل نہ کریں۔ اگر کوئی شخص سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر سائبر پولیس کی ویب سائٹ یا قومی ہیلپ لائن نمبر 1930 پر شکایت درج کرائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور جعلسازوں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ایس ایس پی نے ڈیجیٹل اریسٹ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض جعلساز جدید طریقوں سے لوگوں کو خوفزدہ کر کے رقم بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ طریقہ تاحال ضلع ڈوڈہ میں سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بعض مواقع پر دھوکہ باز ویڈیو کال یا فون کے ذریعے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کا سامان ضبط کر لیا گیا ہے یا آپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ درحقیقت ایسا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہوتا اور یہ محض دھوکہ دہی کا حربہ ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سائبر پولیس ڈوڈہ نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اب تک 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے گمشدہ یا چوری شدہ موبائل فونز برآمد کر کے ان کے اصل مالکان کے حوالے کیے ہیں۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور کسی بھی اطلاع یا پیغام پر یقین کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ سائبر جرائم سے محفوظ رہا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande