
لاتور ، 5 مارچ (ہ س)۔ لاتور ضلع کے اوسا تعلقہ کے کھروسا گاؤں میں قائم نو بھارت ہائر سیکنڈری اسکول میں ایک استاد کو ترقی دلانے کے لیے جعلی دستاویزات اور جعلی قرارداد استعمال کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ اس کیس میں عدالت کے حکم کے بعد اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور ایک استاد کے خلاف کِلاری پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔یہ اسکول مہاتما بسویشور شکشن پرسرک منڈل کے تحت چلتا ہے۔ یہاں ہائر سیکنڈری اسسٹنٹ ٹیچر دتاتریہ گووند سوروسے کی ریٹائرمنٹ کے بعد مراٹھی اور تاریخ کے مضمون کی اسامی خالی ہوئی تھی۔ ضابطے کے مطابق اس عہدے کے لیے سینیئرٹی فہرست میں شامل سینئر اساتذہ پر غور ہونا چاہیے تھا، مگر کئی سینئر اساتذہ کو نظر انداز کر کے گنیش موتی رام بیرجدار کے حق میں تجویز تیار کی گئی۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسکول کمیٹی کی کوئی باضابطہ میٹنگ منعقد نہیں ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود میٹنگ ہونے کا تاثر دینے کے لیے کارروائی رجسٹر میں اندراج کے بغیر ایک قرارداد تیار کی گئی۔ تجویز کے ساتھ پیش کی گئی ایگزیکٹو کمیٹی اور اسکول کمیٹی کے ارکان کی فہرست بھی حقیقت سے مختلف پائی گئی۔اس معاملے میں ادارے کے سیکریٹری ملیکارجن پرمیشور ڈوکے کے نام کی جعلی مہر اور دستخط استعمال کیے گئے تاکہ تجویز کو سرکاری حیثیت دی جا سکے۔ حالانکہ سینیارٹی فہرست میں گنیش بیرجدار کا نمبر 15 تھا، اس کے باوجود انہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ہیڈ ماسٹر پرمیشور پنچپا سوامی کے دستخط اور مہر کے ساتھ یہ تجویز آگے بھیجی گئی تھی۔ جب اس غیر قانونی کارروائی کی اطلاع ادارے کے سیکریٹری ملیکارجن ڈوکے کو ملی تو انہوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور مقامی پولیس میں شکایت درج کرائی۔ تاہم کارروائی نہ ہونے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔اوسا کے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد کِلاری پولیس اسٹیشن میں ہیڈ ماسٹر پرمیشور پنچپا سوامی اور استاد گنیش موتی رام بیرجدار کے خلاف دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات اور سازش سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے