ایم ایم یو نے حسنین مسعودی کے شراب پر دئیے بیان کی سخت مذمت کی
جموں، 31 مارچ(ہ س)۔ متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی حسنین مسعودی کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جس میں انہوں نے جموں و کشمیر میں آمدنی کے پیش نظر شراب کی فروخت کا دفاع کیا تھا۔ایم ایم یو کے ترجمان نے منگل کو جاری ایک بی
Liquor


جموں، 31 مارچ(ہ س)۔

متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی حسنین مسعودی کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جس میں انہوں نے جموں و کشمیر میں آمدنی کے پیش نظر شراب کی فروخت کا دفاع کیا تھا۔ایم ایم یو کے ترجمان نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے خیالات افسوسناک ہیں کیونکہ اسلام میں نشہ آور اشیاء کی واضح ممانعت ہے اور یہ اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب نوشی کے معاشرتی اثرات جیسے گھریلو مسائل، مالی پریشانیاں اور اخلاقی بگاڑ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ حسنین مسعودی نے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شراب پر پابندی سے یو ٹی کی آمدنی متاثر ہوگی اور ترقیاتی کام متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پابندی کی صورت میں غیر معیاری شراب کی فروخت میں اضافہ ہوگا، جو انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، اور اس سلسلے میں بہار اور گجرات کی مثالیں بھی دی تھیں۔

ترجمان نے کہا کہ کسی ایسے رہنما کی جانب سے اس قسم کا موقف اختیار کرنا جو کشمیری اقدار اور شناخت کی بات کرتا ہو، مایوس کن اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مفادات کو سماجی اور اخلاقی اقدار پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ایم ایم یو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرے اور جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، جبکہ شراب کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande