
بھوپال، 31 مارچ (ہ س)۔ نئے مالیاتی سال 27-2026 کے آغاز کے ساتھ عام بینک صارفین کے لیے ایک اہم تبدیلی ہونے جا رہی ہے، جو براہِ راست ان کی روزمرہ کی بینکنگ عادات کو متاثر کرے گی۔ یکم اپریل سے ملک کے کئی بڑے بینکوں نے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن سے مربوط قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں ایچ ڈی ایف سی بینک، پنجاب نیشنل بینک اور بندھن بینک شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں کے بعد اب اے ٹی ایم سے بار بار پیسے نکالنا پہلے کے مقابلے میں مہنگا پڑے گا اور صارفین کو اپنے لین دین کی بہتر منصوبہ بندی کرنی ہوگی، جس کا اثر مدھیہ پردیش میں ان لاکھوں لوگوں پر پڑنے جا رہا ہے جن کا ان بینکوں میں کھاتہ ہے۔
دراصل، بینکوں نے فری ٹرانزیکشن لمٹ، نقد نکالنے کی حد اور اضافی ٹرانزیکشن پر لگنے والے چارجز میں تبدیلی کی ہے۔ اب تک صارفین اپنے بینک کے اے ٹی ایم سے ہر ماہ 5 مفت ٹرانزیکشن کر سکتے تھے اور یہ نظام جاری رہے گا، لیکن اس کے بعد کیے گئے ہر اضافی ٹرانزیکشن پر فیس دینا لازمی ہوگا۔ میٹرو شہروں میں دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم پر 3 اور نان میٹرو شہروں میں 5 مفت ٹرانزیکشن کی حد طے ہے، جس کے بعد چارجز لاگو ہو جاتے ہیں۔
سب سے بڑا اثر ان صارفین پر پڑے گا جو بار بار چھوٹی رقوم نکالتے ہیں یا مختلف اے ٹی ایم استعمال کرتے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت فری لمٹ ختم ہونے کے بعد ہر ٹرانزیکشن پر تقریباً 23 روپے تک کی فیس دینا ہوگی، جس پر جی ایس ٹی الگ سے لگے گا۔ پہلے یہ فیس تقریباً 21 روپے تھی، جسے اب بڑھا دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن مہینہ بھر میں کئی بار اے ٹی ایم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے یہ اضافی خرچ کافی بڑھ سکتا ہے۔
ان تبدیلیوں میں سب سے دلچسپ پہلو ایچ ڈی ایف سی بینک کا ہے، جس نے یو پی آئی پر مبنی کارڈ لیس کیش نکالنے آئی سی سی ڈبلیو) سے متعلق قوانین بدل دیے ہیں۔ اب تک یو پی آئی کے ذریعے اے ٹی ایم سے نکالا گیا کیش فری ٹرانزیکشن لمٹ سے الگ گنا جاتا تھا، لیکن یکم اپریل سے یہ بھی اسی لمٹ میں شامل ہوگا۔ یعنی اب صارفین چاہے ڈیبٹ کارڈ سے پیسے نکالیں یا یو پی آئی کے ذریعے، دونوں صورتوں میں ٹرانزیکشن کی گنتی ایک ہی ہوگی۔ اس سے ان صارفین پر زیادہ اثر پڑے گا جو ڈیجیٹل ذریعے سے کیش نکالنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کے علاوہ بینک نے وقت سے متعلق ایک نیا قانون بھی نافذ کیا ہے، جس کے تحت شام 7.30 بجے کے بعد کی گئی ٹرانزیکشن اگلے دن کے کھاتے میں جوڑی جائے گی۔ مہینے کے آخری دن کی گئی ایسی ٹرانزیکشن اگلے مہینے کی فری لمٹ میں شامل ہو سکتی ہیں۔
وہیں پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) نے اپنے صارفین کے لیے ڈیبٹ کارڈ سے نقد رقم نکالنے کی حد میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ بینک نے کئی کارڈ کیٹیگریز میں روزانہ نکالنے کی حد کو کم کر دیا ہے۔ جہاں پہلے کچھ کارڈز پر یومیہ ایک لاکھ روپے تک نکالے جا سکتے تھے، اب اسے گھٹا کر 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح پریمیم کارڈز پر پہلے ڈیڑھ لاکھ روپے تک نکالنے کی سہولت تھی، جسے اب 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ یعنی کئی معاملات میں صارفین کے پیسے نکالنے کی حد آدھی کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بڑی ادائیگی کے لیے کئی بار ٹرانزیکشن کرنی پڑ سکتی ہے اور اس کا براہِ راست اثر ان کے خرچ پر پڑے گا۔
بندھن بینک نے بھی اپنے اے ٹی ایم قوانین میں ترمیم کی ہے۔ بینک کے مطابق، صارفین کو اپنے اے ٹی ایم پر ہر ماہ 5 مفت فائنانشل ٹرانزیکشن ملیں گے، جبکہ بیلنس چیک جیسی نان فائنانشل ٹرانزیکشن لامحدود رہیں گی۔ تاہم، دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم پر میٹرو شہروں میں 3 اور نان میٹرو شہروں میں 5 مفت ٹرانزیکشن کی حد طے کی گئی ہے۔ اس کے بعد بینک کے قوانین کے مطابق فیس نافذ ہوگی۔
ان تمام تبدیلیوں کے پیچھے بنیادی وجہ اے ٹی ایم کے آپریشن، دیکھ بھال اور کیش مینجمنٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات بتائی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں بھارتی ریزرو بینک کی ہدایات کے مطابق کی گئی ہیں، جو وقت بوقت اے ٹی ایم انٹرچینج فیس اور ٹرانزیکشن چارجز کا جائزہ لیتا ہے۔ بینکوں کا ماننا ہے کہ ان تبدیلیوں سے اے ٹی ایم کا غیر ضروری استعمال کم ہوگا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ ملے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ان نئے قوانین کا اثر آہستہ آہستہ صارفین کی بینکنگ عادات پر دکھائی دے گا۔ جو لوگ بار بار اے ٹی ایم سے پیسے نکالتے ہیں، انہیں اب زیادہ محتاط رہنا ہوگا اور اپنی نکاسی کو محدود کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی، جن صارفین کے کھاتے میں کافی بیلنس نہیں ہوتا اور ان کی ٹرانزیکشن فیل ہو جاتی ہے، انہیں بھی 25 روپے تک کا جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن