
حیدرآباد ، 31 مارچ (ہ س) کانگریس پارٹی نے اپنے ایک اور انتخابی وعدے کو پورا کرتے ہوئے ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ کو ریاستی اسمبلی میں پاس کردیا۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ وکلاء پر ہونے والے حملوں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے حکومت مؤثر اقدامات کرے گی۔ لیکن ایڈوکیٹس وامن راؤ اور انکی اہلیہ کے قتل کے بعد ریاست میں متعدد وکلاء پر حملے اور قتل کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کی روک تھام کیلئےطویل عرصے سے وکلاء کی جانب سے ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری تھی۔
اس سلسلے میں اُس وقت کے پی سی سی صدر اورموجودہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے نارائن پیٹ کے دورے کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر کانگریس پارٹی کو ریاست میں اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اسمبلی میں ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا جائے گا۔ اپنے وعدے کو نبھاتے ہوئے، وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ایک نیک ارادے کے ساتھ کرناٹک اور گجرات کے طرز پر اس ایکٹ کو تلنگانہ میں نافذ کرنے کے لیے گزشتہ اتوار کو وزیر ڈی سری دھر بابو کے ذریعے اسمبلی میں بل پیش کروایا۔ اس بل کو اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ جسکے تحت نہ صرف وکلاء بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور ان کی املاک کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا، جس سے ریاست تلنگانہ کے تمام وکلاء کو فائدہ حاصل ہوگا۔
اس قانون کے نفاذ کے لیے ماضی میں ریاست بھر کے وکلاء نے کئی احتجاج بھی کیے تھے، اور بالآخر متحدہ محبوب نگر ضلع کے عوامی نمائندوں اور حکومت کی کوششوں سے یہ قانون ممکن ہو سکا۔ نارائن پیٹ ضلع کانگریس لیگل سیل اور ریاست کے تمام وکلاء کی جانب سے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، وزراء اور متعلقہ عوامی نمائندوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا اور مبارکباد پیش کی گئی۔ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری کے موقع پر وکلاء نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق