لیبر کالونی کی جھگی توڑنے پر تنازعہ، کانگریس نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا، کلکٹر کو میمورنڈم سونپا
لیبر کالونی کی جھگی توڑنے پر تنازعہ، کانگریس نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا، کلکٹر کو میمورنڈم سونپا بھوپال، 31 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے گووند پورہ اسمبلی حلقہ میں واقع اسٹیٹ لیبر کالونی کی جھگی بستی کو ہٹانے کی مجوزہ کار
کانگریس نے کلکٹر کو میمورنڈم سونپا


لیبر کالونی کی جھگی توڑنے پر تنازعہ، کانگریس نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا، کلکٹر کو میمورنڈم سونپا

بھوپال، 31 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے گووند پورہ اسمبلی حلقہ میں واقع اسٹیٹ لیبر کالونی کی جھگی بستی کو ہٹانے کی مجوزہ کارروائی کو لے کر تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے منگل کو ضلع کلکٹر کو میمورنڈم سونپ کر اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کے وفد کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے سینکڑوں غریب خاندان بے گھر ہو جائیں گے، اس لیے انتظامیہ انسانی ہمدردی کا رویہ اپناتے ہوئے بستی کو توڑنے کے عمل پر روک لگائے۔ وفد میں سابق وزیر پی سی شرما، آل انڈیا خاتون کانگریس کی سکریٹری دیپتی سنگھ، خاتون کانگریس کی سابق ریاستی صدر وبھا پٹیل، سینئر لیڈر جے پی دھنوپیا، سابق خزانچی گووند گوئل، ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر پروین سکسینہ، نگر نگم میں حزبِ اختلاف رہنما شبستاں ذکی سمیت کئی سینئر قائدین اور عوامی نمائندے شامل رہے۔

میمورنڈم میں بتایا گیا کہ لیبر کالونی میں رہنے والے خاندان سال 1982 سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ 29 مارچ 2026 کو نگر نگم کا عملہ پولیس فورس کے ساتھ بلڈوزر لے کر بستی ہٹانے پہنچا تھا۔ الزام ہے کہ اس دوران نہ تو پہلے سے کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔ مقامی باشندوں کی مخالفت کی وجہ سے اس دن کارروائی ٹل گئی، لیکن انتظامیہ نے دو دن کے اندر مکان خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔ کانگریس لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ بستی والوں کے پاس قانونی پٹے موجود ہیں اور وہ باقاعدگی سے ٹیکس اور بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں ہٹانا ناانصافی اور غیر انسانی ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ بستی کو توڑنے کی مجوزہ کارروائی فوری طور پر روکی جائے۔ سڑک کی تعمیر یا ترقیاتی کام کے لیے متبادل راستہ (ڈائیورژن) تلاش کیا جائے۔ بغیر قانونی طریقہ کار اور پیشگی اطلاع کے کسی بھی کارروائی پر روک لگائی جائے۔ حکام کو ہدایت دی جائے کہ بستی والوں کو کسی قسم کی دھمکی یا ہراساں نہ کیا جائے۔

وفد نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اس حساس معاملے پر منصفانہ فیصلہ کرے گی۔ دوسری طرف کانگریس نے وارننگ دی ہے کہ اگر جلد مثبت قدم نہ اٹھائے گئے تو پارٹی عوامی مفاد میں تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔ کانگریس لیڈروں نے کہا کہ یہ صرف مکانات کا نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کی زندگی، روزگار اور وقار سے جڑا معاملہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande