لاء فیکلٹی میں تیسرا سر سید نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ, 30 مارچ (ہ س) فیکلٹی آف لاء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لاء سوسائٹی کے موٹ کورٹ سیل کے زیر اہتمام تیسرا سر سید نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ اس مقابلے میں ملک بھر کے ممتاز قانونی اداروں نے شرکت کی اور اعلیٰ معیار کی
موٹ کورٹ مقابلہ


علی گڑھ, 30 مارچ (ہ س) فیکلٹی آف لاء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لاء سوسائٹی کے موٹ کورٹ سیل کے زیر اہتمام تیسرا سر سید نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ اس مقابلے میں ملک بھر کے ممتاز قانونی اداروں نے شرکت کی اور اعلیٰ معیار کی قانونی تحقیق، وکالت اور تجزیاتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

فائنل راؤنڈ کا فیصلہ معزز ججوں کے ایک پینل نے کیا، جس میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے جسٹس راکیش تھپلیال، الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ستیہ ویر سنگھ، ضلع و سیشن جج علی گڑھ جناب پنکج کمار اگروال، حکومت اتر پردیش کے اسپیشل سکریٹری (قانون) ڈاکٹر کیشو گوئل، ایڈیشنل جج و اسپیشل جج (ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ) جناب گگن کمار بھارتی اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جناب زہیب حسین شامل تھے۔

اختتامی تقریب کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے شرکاء کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے قانون کے طلبہ میں وکالتی مہارت، ناقدانہ فکر اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو فروغ دیتے ہیں، جو انہیں عملی میدان کے تقاضوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔

مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر شکیل احمد نے قانون کی تعلیم میں اے ایم یو کی شاندار روایت کو اجاگر کیا۔ جسٹس راکیش تھپلیال نے طلبہ کو محنت اور دیانت داری کی اقدار اپنانے کی تلقین کی، جبکہ جسٹس ستیہ ویر سنگھ نے معاشرے کے محروم طبقات کو بااختیار بنانے میں قانون کے کردار پر زور دیا۔

نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی، بنگلور کے وشنو شرما اور پورندر ایس کی ٹیم کو موٹ کورٹ مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا، جبکہ ایشین لا کالج، نوئیڈا کی ٹیم، جس میں ہرمن پریت کور، دیوانش چودھری اور آدیتی گوتم شامل تھے، رنر اپ رہی۔ وشنو شرما کو بہترین مقرر اور آدیتی گوتم کو بہترین محقق قرار دیا گیا جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم کو بیسٹ میموریل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس سے قبل موٹ کورٹ سیل کے سکریٹری محمد بلال نے پروگرام کی رپورٹ پیش کی، آدتیہ بھٹاچاریہ نے نتائج کا اعلان کیا، جبکہ پرنسی بھاردواج نے اظہارِ تشکر کیا۔ نظامت کے فرائض ویسالی تومر اور خوشی تومر نے انجام دیے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande