اے ایم یو کے شعبہ فائن آرٹس کی جانب سے آرٹ فیسٹیول و نمائش کا اہتمام
علی گڑھ،30 مارچ(ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس نے ”آرٹ بیلیزا 2026“ کے عنوان سے ایک آرٹ فیسٹیول اور نمائش کا اہتمام کیا۔ پروگرام کا افتتاح مہمان خصوصی، سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کیا۔ اس موقع پر مہمان اعزازی کے طور پر
آرٹس نمائش دیکھتے ہوئے مہمانان


علی گڑھ،30 مارچ(ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس نے ”آرٹ بیلیزا 2026“ کے عنوان سے ایک آرٹ فیسٹیول اور نمائش کا اہتمام کیا۔ پروگرام کا افتتاح مہمان خصوصی، سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کیا۔ اس موقع پر مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر محمد رضوان خان، کوآرڈینیٹر سی ای سی، اے ایم یو اور ڈاکٹر عابد ہادی، چیئرمین، شعبہ فائن آرٹس و کنوینر پروگرام موجود تھے۔

اپنے خطاب میں پروفیسر گلریز نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور موجودہ دور میں آرٹ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فن صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باوقار پیشہ بھی ہے، طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی قدر کریں اور ان میں نکھار پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ اے ایم یو ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں فنی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور انہیں بامعنی سمت دی جاتی ہے۔ پروفیسر محمد رضوان خان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم اور پروگرام طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور فن کو معاشرے سے بامعنی طور پر جوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عابد ہادی نے بتایا کہ آرٹ بیلیزا ایک سالانہ تقریب ہے جو نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ طلبہ میں تخلیقی جدت اور پیشہ ورانہ ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔

فیسٹیول میں فن پاروں کی متنوع اقسام پیش کی گئیں، جن میں پینٹنگز، انسٹالیشنز، آرائشی نمائشیں اور انٹرایکٹیو سرگرمیوں کے زون شامل تھے۔ نمائش کا دائرہ گیلریوں سے آگے بڑھ کر کھلی جگہوں تک تھا، جس سے طلبہ کواپنی تخلیقی سرگرمیوں کی نمائش کا بھر پور موقع ملا۔ مختلف عمر کے شائقین نے انسانی جذبات، تخیل اور نفسیاتی گہرائی جیسے موضوعات پر مبنی فن پاروں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ فن پاروں کی ایک نمایاں خصوصیت پائیداری پر زور تھا۔ کئی فن پارے ری سائیکل شدہ مواد جیسے پرانے فرنیچر اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء سے تیار کیے گئے، جو ماحولیاتی ذمہ داری کا پیغام دیتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande